رسائی کے لنکس

انتہاپسندی کے تدارک کے لیے نیکٹا کی قومی پالیسی وضع


فائل فوٹو

پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے یعنی 'نیکٹا' نے ملک میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک قومی پالیسی وضع کی ہے جس میں مدارس اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے نصاب کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اصلاحات وضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

نیکٹا کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگرچہ یہ پالیسی وفاقی حکومت نے وضع کی ہے جس کے تحت انسداد انتہاپسندی کے لیے مختلف سفارشات اور اقدامات تجویز کیے گئے تاہم صوبائی حکومتیں اپنے حالات اور ثقافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی وضع کر سکتی ہیں۔

اس پالیسی میں ان عوامل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو معاشرے میں انتہا پسندانہ سوچ اور تشدد کی وجہ بن رہے ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں جن میں ںوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

پالیسی میں ملک میں قائم دینی مدارس کو مرکزی تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے ان کے نصاب کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

سیکورٹی امور کے تجزیہ کار اور فوج کے سابق بریگیڈیئر اسد منیر نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مقتدر حلقوں میں اس بارے میں آگاہی موجود ہے کہ عسکریت پسندی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے تاہم ان کے بقول سب سے بڑا چیلنج اس پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

"انتہا پسند سوچ بننے میں کئی سال لگے ہیں اس کو تبدیل کرنے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔ ہر شعبے میں دور رس اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے جن میں مدارس کا تعلیمی نصاب، جیل اصلاحات، اس میں غربت کا تدارک کرنا بھی شامل ہے ۔۔۔ان تجاویز پر عمل کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل بنانا پڑے گا ۔"

اسد منیر نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی میں کمی آنے سے انتہاپسندی کے رجحانات میں بھی کمی آئے گی۔

"ایک ہے انتہاپسندی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا چیلنج ہے ، اول ترجیح تو دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو۔ اس کے لیے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔"

پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نیکٹا کی پالیسی میں بھی اس بارے میں توجہ دلائی گئی ہے کہ ملک کے بعض علاقوں بشمول فاٹا، خیبر پختوںخواہ اور بلوچستان میں ںوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع دیگر علاقوں کی نسبت کم ہیں۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری آپریشن ردالفساد کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن حالیہ ہفتوں میں ملک میں پیش آنے دہشت گردی کے واقعات میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے ملوث ہونے کی وجہ نوجوانوں میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو قرار دیا جارہا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہداعش اور اس جیسی شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر توجہ دی رہی ہیں جس کا بروقت تدارک ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG