رسائی کے لنکس

logo-print

بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کے پاکستانی شناختی کارڈ کی منسوخی


افغان مہاجرین

نادرا کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ مہاجر ین یا غلط طر یقے سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والے شخص کے فارم کی تصدیق کرنے والے سر کاری افسر کو سزا قانون کے مطابق سزا دینے کے ساتھ ساتھ مزید سزا کیلئے بھی قانون سازی کی جائے گی اور ایسے افسران کو بلیک لسٹ کیاجائے گا۔

ڈپٹی چیئرمین نادرا محمد طارق ملک نے کہا ہے کہ ملٹی بائیومیٹر ک نظام کے نصب ہو نے کے بعد ادارے کی طر ف سے افغان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے مہاجرین کے 13 ہزار سے زائد شناختی کارڈ منسوخ اور افغان مہاجر ین کی طر ف سے پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کرنے کی بارہ ہزار سے زائد کو ششوں کو نا کام بنایا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ نادرا 2005 ء سے انگلیوں کے نشانات کی تصدیق اور تصویر کی شناخت کر نے والے بائیو میٹر ک کے نظام کا استعمال کر رہا ہے جن مہا جرین کے شناختی کارڈ منسوخ کئے گئے ان کے پاسپورٹ اور بنک اکاونٹ بھی منجمد کئے گئے ۔

طارق ملک نے کہا کہ پاکستان میں افغان مہاجر ین کو بعض اوقات پو لیس اور دیگر اداروں کی طر ف سے اپنی شناخت کرانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے اور اس مسئلے کو نادرا نے مہاجر ین کارڈ کا اجراء کر کے حل کر دیا اب مہاجرین دسمبر، 2012 تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں تاہم انہو ں نے کہا کہ افغان مہاجر ین کی طر ف سے پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کرنے کا اگر علم ہو تو وہ نادرا کو آگاہ کر ے نا درا اس کے خلاف کارروائی کرے گی ، مہاجر ین کی طر ف سے شنا ختی کارڈ حاصل کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے نادرا قبائلی عمائدین کی مدد لینے کے ساتھ مقامی لوگوں کی خدمات بھی حاصل کر ے گا۔

انہو ں نے کہا کہ مہاجر ین یا غلط طر یقے سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والے شخص کے فارم کی تصدیق کرنے والے سر کاری افسر کو قانون کے مطابق سزا دینے کے ساتھ ساتھ مزید سزا کیلئے بھی قانون سازی کی جائے گی اور ایسے افسران کو بلیک لسٹ کیاجائے گا۔

طارق ملک نے کہا کہ انتخابی عمل کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے نا درا نے وفاقی حکومت کی اجازت سے ایک جدید نظام متعارف کر ایا ہے جس کے تحت رائے دہندہ کا اندراج اور ووٹ کا استعمال کمپیوٹر کی تصدیق کے بعد ہو گا، اس نظام کو ملک کے چار اضلاع میں تجر باتی بنیادوں پر آزما یا گیا جس کے نتائج سو فیصد رہے وفاقی حکومت چاہے تو نادرا چھ ماہ کے اندر یہ نظام پورے ملک میں نا فذ کر سکتا ہے اس حوالے سے نادرا قانون سازی بھی کر ے گا۔

XS
SM
MD
LG