رسائی کے لنکس

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے لیکن ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی کا مکمل خاتمہ مزید وقت کا متقاضی ہے۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں صوبائی اسمبلی سے محض چند سو گز کے فاصلے پر ہونے والے خود کش بم دھماکے کی جہاں تمام سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے مذمت کی جا رہی ہے وہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔

پیر کی شام مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش بم حملے میں دو اعلیٰ پولیس افسران سمیت 15 لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے جب کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

حزب مخالف اسے سکیورٹی میں غفلت قرار دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جب کہ ان سیاسی حلقوں سمیت مبصرین کی طرف سے بھی قومی لائحہ عمل کے جائزے اور سنجیدگی سے عملدرآمد کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کے بلند آہنگ ناقد اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی استعداد کار کو بھی بڑھایا جانا ضروری تھا جو کہ ان کے بقول حکومت نے نہیں کیا۔

منگل کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ قومی لائحہ عمل پر اگر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جاتا تو ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔

"اگر عمل ہوتا تو دہشت گردی ختم ہوتی لیکن لگتا ہے دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔۔۔جب تک پولیس کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا، رینجرز اور فوج پر نہ چھوڑا جائے کہ وہ دہشت گردی ختم کریں گے۔۔۔آپ کا معیار جتنا بلند ہو گا اتنا ہی دہشت گردی کی جنگ صحیح معنوں میں جیتنے کے امکانات ہیں۔"

صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تمام سکیورٹی اداروں کی توجہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر مرکوز ہے اور اب تک کی کوششوں کی وجہ سے ہی ماضی کے مقابلے میں دہشت گرد واقعات میں کمی آئی ہے۔

تاہم فوج کے انٹیلی جنس ادارے کے ایک سابق عہدیدار اور سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اسد منیر کہتے ہیں کہ قومی لائحہ عمل میں وضع کیے گئے اقدام کی کوئی معیاد مقرر نہیں کی گئی اور ان کے بقول نہ ہی اس ضمن میں ٹھوس اقدام دیکھنے میں آئے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی اور منافرت پھیلانے والوں کے لیے خلاف جس انداز میں موثر کارروائی کی جانی چاہیے تھی وہ نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے دہشت گردی کا عفریت پوری طرح سے قابو میں نہیں آ پایا ہے۔

"پلان تو یہ ہوتا ہے کہ ہم فلاں کام اتنے عرصے میں کریں گے، تو جو ان کا لائحہ عمل ہے اس میں تو نکات ہیں۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو سال قبل قومی لائحہ عمل ملک کی سیاسی جماعتوں اور عسکری اداروں کی متفقہ رائے سے ترتیب دیا تھا لیکن اس پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کا ذکر عسکری حلقوں کی طرف سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔

لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے لیکن ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی کا مکمل خاتمہ مزید وقت کا متقاضی ہے۔

XS
SM
MD
LG