رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں کا بِل موخر


فائل فوٹو

وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے اشارے سے ڈپٹی اسپیکر کو بل مؤخر کرنے کا کہا جس پر بِل مؤخر کردیا گیا۔

قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئین میں ترمیم کا بِل حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث مؤخر کردیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے کو اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس کے ایجنڈے میں شامل حلقہ بندیوں کا آئینی بل ایوان میں پیش نہ کیا جاسکا۔

جب آئینی بل پیش کرنے کی باری آئی تو ڈپٹی اسپیکر نے بِل پیش کرنے کے لیے وزیرِ قانون زاہد حامد کا نام پکارا لیکن وہ ایوان میں موجود نہ تھے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان میں موجود وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کو مخاطب کیا۔

وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے اشارے سے ڈپٹی اسپیکر کو بل مؤخر کرنے کا کہا جس پر بِل مؤخر کردیا گیا۔

قومی اسمبلی میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے رواں ہفتے ایک اجلاس میں رواں سال ہونے والی مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیاں کرانے پر اتفاق کیا تھا جس سے متعلق قانون کا مسودہ جمعے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا تھا۔

اسمبلی اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رکن عیسیٰ نوری نے کوئٹہ سے خواتین و بچوں کی گمشدگی کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں اور قوم پرست جماعتوں نے سکیورٹی اداروں پر علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ اور بچوں کو غائب کرنے کا الزام لگایا ہے۔

حکومت نے یہ اعتراف تو کیا ہے کہ کچھ افراد کو غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے لیکن قومی اسمبلی میں حکومتی بینچوں نے اس حوالے سے حزبِ اختلاف کی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ انسانی حقوق نے ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی شرح کے حوالے سے تحریری جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2017ء سے جون 2017ء تک ملک بھر میں 1764 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے جس میں سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں ریکارڈ ہوئے۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں زیادتی کے 1089 اور سندھ میں 490 واقعات پیش آئے۔ اسلام آباد میں 58، بلوچستان میں 76، خیبر پختونخوا میں 42 اور آزاد کشمیر میں 9 واقعات پیش آئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG