رسائی کے لنکس

پارٹی صدارت سے نا اہلی کا فیصلہ ’غیر متوقع نہیں تھا‘


سابق وزیراعظم نوازشریف (فائل فوٹو)

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اُنھیں اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دینے کا فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔

احتساب عدالت میں پیشی کے بعد جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ ’’میرا نام نواز شریف ہے اس کو بھی چھیننا ہے تو چھین لیں۔‘‘

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے پر بدھ کو فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نا اہل قرار دیا گیا تھا شخص سیاسی جماعت صدارت کا عہدہ بھی نہیں رکھ سکتا۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 28 جولائی کو نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62 ایف کے تحت نا اہل قرار دے دیا تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ ’’گزشتہ روز دیئے گئے فیصلے کی بنیاد وہی ہے کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی۔‘‘

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 28 جولائی 2017 کا جو فیصلہ تھا اس میں ’’وزارتِ عظمیٰ چھین لی گئی، 21 فروری 2018 کے فیصلے میں مجھ سے پارٹی کی صدارت بھی چھین لی گئی۔ اگر میرا نام چھیننے کے لیے آئین میں کوئی شق نہیں ملتی تو ’بلیک لا ڈکشنری‘ کی مدد لے کر میرا نام چھین لیا جائے۔‘‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف گزشتہ روز آنے والے فیصلے کے بعد انہیں پارٹی صدارت سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے اس فیصلہ کو انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

اُدھر سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کپیٹن (ر) صفدر نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز میں ٹرائل کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنسز پر نواز شریف کے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نواز خاندان کے خلاف دائر نیب ریفرنسز کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف ان کی صاحب زادی مریم نواز اور کپیٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف 19ویں، مریم نواز 21ویں اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر 23 ویں بار عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

دوران سماعت نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرائل مکمل کرنے کی مدت ختم ہونے کو ہے، اس لیے ٹرائل کی مدت بڑھانے کے لیے مانیٹرنگ جج کو خط لکھا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے ٹرائل کی مدت بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مقررہ وقت میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کروا لیں گے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگلی سماعت پر تین اور باقی گواہوں کے بیانات اس کے بعد ریکارڈ کروا لیں گے، جس پر عائشہ حامد بولیں کہ گواہوں کے بیانات اور ان پر جرح مذاق نہیں۔

نواز شریف کی وکیل نے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کے ضمنی ریفرنسز پر اعتراضات عائد کر دیئے ہیں اور موقف اختیار کیا ہے کہ ضمنی ریفرنسز دائر کرنے کی شرائط پر عمل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے ضمنی ریفرنسز پر نواز شریف کے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جس کے بعد سماعت میں دوپہر ڈیڑھ بجے تک کا وقفہ کر دیا گیا۔

لندن فلیٹس ریفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز کی آج دوپہر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست احتساب عدالت نے منظور کر لی ہے۔ آج دوپہر غیر ملکی گواہوں رابرٹ ریڈلے اور راجہ اختر کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG