رسائی کے لنکس

logo-print

مضبوط دفاع کے لیے مستحکم جمہوریت ضروری: نواز شریف


وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور مضبوط جمہوری اداروں کے بغیر ملک کا موثر دفاع ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے ہفتہ کو ایبٹ آباد میں فوجی افسران کی مرکزی تربیت گاہ کاکول میں تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں کہا کہ قومی اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

’’مضبوط معیشت، جمہوری اداروں، قانون کی عمل داری اور دہشت گردی پر قابو پائے بغیر مضبوط ملکی دفاع ممکن نہیں۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور دفاع کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی موجودہ صورت حال اور کفایت شعاری کے پالیسی کے باوجود، ریاست ملک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے فورسز کو تمام ضروری وسائل فراہم کر رہی ہے۔

انھوں نے تربیت مکمل کرنے والے نوجوان افسران سے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور فنی ایجادات موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے جس نے طرز زندگی کو بدل دیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی نے ترقی یافتہ قوموں کا پلڑا بھاری کر دیا ہے اس لیے پاکستانی فورسز کو بھی اس میدان میں اپنے قدم جمانے کی ضرورت ہے۔

’’کیوں کہ حکومت کا فرض دفاع کے لیے ذرائع اور وسائل مہیا کرنا ہے، اس لیے آپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ خود کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کریں اور نئے جنگی ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت حاصل کریں۔ قلیل ذرائع اور وسائل کے حامل ملک کا شہری ہونے کے ناطے آپ نے ان کو ہر ممکن طور پر بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہے ۔ آپ کے پاس جو کچھ موجود ہے آپ نے اس سے بہتر طور پر کام لینا ہے۔‘‘

حالیہ دنوں میں فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں جس کی وجہ بظاہر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کی سنگین خلاف ورزی کی فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد وفاقی وزرا بشمول وزیر دفاع کے سخت بیانات تھے۔

ان بیانات کے بعد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے بیان میں کہا گیا تھا کہ فوج اپنے ادارے کے وقار کا ہر صورت دفاع کرے گی۔

بظاہر تناؤ کی اس صورت حال میں سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر کے ملک میں جمہوریت کے تسلسل پر اتفاق کیا۔

وفاقی حکومت کے اہم وزرا کی جانب سے بیانات میں کہا جاتا رہا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ کی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔
XS
SM
MD
LG