رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف سزا معطلی کے خلاف اپیلوں کی سماعت بدھ کو ہو گی


فائل فوٹو

سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی رہائی کے خلاف نیب کی اپیلوں پر سماعت بدھ کو ہو گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں نیا بنچ سماعت کرے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا معطلی کے فیصلے کے خلاف نیب کی اپیل پر سپریم کورٹ کا نیا بنچ بدھ کو سماعت کرے گا۔

بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال ناسازی طبع کے باعث بنچ سے الگ ہو گئے تھے، جس کے بعد جسٹس مظہر عالم میاں خیل کو بنچ کا حصہ بنایا گیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پاناما ریفرنس سے رہائی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو نیب نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے تینوں ملزمان کی رہائی کے خلاف اپیلوں میں موقف اپنایا گیا کہ عدالت عالیہ نے مقدمہ کے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا۔

سپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

اس کیس کی سماعت کے لیے پہلے سپریم کورٹ کی طرف سے جو کازلسٹ جاری کی گئی تھی اس میں جسٹس عمرعطا بندیال شامل تھے لیکن جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے علیحدہ ہونے پر جسٹس مظہرعالم میاں خیل کو بینچ میں شامل کرلیا گیا، لیکن اسی دوران مختلف میڈیا چینلز پر اس حوالے سے خبریں نشر ہونے لگیں کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے خود کو بینچ سے الگ کیا ہے۔ اس معاملے پر چیف جسٹس نے بدھ کے روز خصوصي بینچ میں ان تمام میڈیا چینلز کے مالکان کو وضاحت کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا ہے جنہوں نے جسٹس عمر عطا بندیال کے الگ ہونے سے متعلق غلط خبریں نشر کی تھیں۔

دوسری جانب چیف جسٹس نے جوڈیشل کمشن کا اجلاس یکم نومبر کو طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیر جج جسٹس اطہر من اللہ کے بطور چیف جسٹس نام پر غور کیا جائے گا۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کی جانب سے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کی گئی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کے چیف جسٹس بننے کی صورت میں نواز شریف، مریم نواز، اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اپیلوں پر سماعت کرنے والا اسلام آباد ہائی کورٹ کا بنچ بھی ممکنہ طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ شریف خاندان کی نیب فیصلے کے خلاف اپیلیں سننے والے بنچ کا حصہ ہیں۔

ان کے چیف جسٹس بننے کی صورت میں شریف خاندان کی اپیلیں کسی اور بنچ کے پاس سماعت کے لئے مقرر کی جا سکتی ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیر جج ہیں لیکن ان سے بھی سینیر جسٹس شوکت عزیز صدیقی تھے جنہیں سپریم جوڈیشل کونسل نے مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے برطرف کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG