رسائی کے لنکس

logo-print

میں اس احتساب کو نہیں مانتا: نواز شریف


سابق وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنسز پر کارروائی احتساب عدالت میں جاری ہے تو دوسری طرف ان کی جانب سے پانچ ماہ قبل اپنے خلاف آنے والے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر تنقید میں روز بروز شدت بھی آتی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت میں حاضری سے استثنیٰ ملنے کے بعد لندن پہنچتے ہی نواز شریف نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے اس احتساب کو تسلیم نہیں کرتے۔

صحافیوں سے گفتگو میں 28 جولائی کو پاناما پیپرز معاملے پر اپنے خلاف فیصلہ دینے والے پانچ ججز کے بینچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ججز صرف وزرائے اعظم کے خلاف ہی کارروائیاں کیوں کرتے رہے ہیں۔

"آمر جو ہے وہ بھی آ کر وزیراعظم کو پکڑتا ہے یہ جو چار پانچ جج ہیں وہ بھی وزیراعظم کو پکڑتے ہیں بھئی کسی اور کو بھی پکڑو یا۔۔۔عدلیہ سے بندہ پوچھے کہ کیوں کر دیا یہ اور میں تو نہیں مانتا اس احتساب کو قطعاً نہیں مانتا۔"

سابق وزیراعظم کی اہلیہ کلثوم نواز علالت کے باعث گزشتہ چار ماہ سے لندن کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں اور نواز شریف ان کی تیمارداری کے لیے لندن گئے ہیں۔

ادھر بدھ کو اسلام آباد میں احتساب عدالت نے نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنس پر سماعت دوبارہ شروع کی جس میں احتساب بیورو کی طرف سے ایک گواہ طیب احمد نے اپنا بیان قلمند کروایا۔

گواہ نے نواز شریف کے غیرملکی بینک کھاتوں اور رقوم کی تفصیلات فراہم کیں۔ بعد ازاں ریفرنس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

نواز شریف، ان کے دو بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز، داماد محمد صفدر اور سمدھی اسحٰق ڈار کے خلاف عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر احتساب بیورو نے ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔

حسن اور حسین نواز احتساب عدالت میں پیش نہیں ہو رہے جس بنا پر انھیں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے جب کہ اسحٰق ڈار بھی علاج کی غرض سے لندن میں ہیں اور گزشتہ ایک ماہ سے عدالتی کارروائیوں میں عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG