رسائی کے لنکس

ترکی سے لڑاکا ہیلی کاپٹر کی خریداری میں پاکستان کی دلچسپی


ٹی-129 لڑاکا ہیلی کاپٹر میزائل اور گنز سے مسلح اور دن اور رات میں یکساں مہارت سے کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان اپنی دفاعی ضرویات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترکی سے جدید لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ترکی میں ٹی۔129 لڑاکا ہیلی کاپٹر کی آزمائشی پرواز کا معائنہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ترکی کی دفاعی پیداواری صنعت اس شعبے میں دنیا کی بہترین صنعتوں میں سے ایک ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان یہ ہیلی کاپٹر خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اس ہیلی کاپٹر کا جائزہ لے رہی ہے اور ہم اس کی خریداری کے معاہدے کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ٹی-129 لڑاکا ہیلی کاپٹر میزائل اور گنز سے مسلح اور دن اور رات میں یکساں مہارت سے کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بھی جاری ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں روس سمیت بعض دیگر ممالک سے بھی ہتھیاروں اور عسکری آلات کے حصول کے لیے کوششیں شروع کی ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہا تھا کہ پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان اب دیگر ذرائع سے مستفید ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ انسداد دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے قریبی اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کو امریکہ نے جدید جنگی آلات اور سامان حرب فراہم کیے لیکن گزشتہ سال ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے پاکستان کو زرِ اعانت دینے سے انکار کے بعد پاکستان نے دیگر ذرائع سے ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG