رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے نئے صدر عارف علوی کا بھارت سے دلچسپ تعلق


پنڈت نہرو کے ذاتی ڈینٹسٹ کے فرزند ہونے کے علاوہ ڈاکٹر عارف علوی کا بھارت سے ایک اور تعلق یہ ہے کہ وہ پاکستان کے اُن تین صدور میں سے ایک ہیں جن کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔

پاکستان کے نومنتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی کے والد بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کے ڈینٹسٹ رہے ہیں اور ڈاکٹر علوی کے پاس نہرو کی طرف سے اُن کے والد کو لکھے گئے متعدد خطوط بھی موجود ہیں۔ یہ بات پاکستان تحریکِ انصاف کی ویب سائیٹ پر دی گئی ڈاکٹر علوی کی سوانح عمری میں بتائی گئی ہے۔

انہتر سالہ ڈاکٹر علوی پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے دیرینہ ساتھی اور اُن کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں۔ ڈاکٹر علوی پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں اور اس شعبے میں اُن کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔

پنڈت نہرو کے ذاتی ڈینٹسٹ کے فرزند ہونے کے علاوہ ڈاکٹر عارف علوی کا بھارت سے ایک اور تعلق یہ ہے کہ وہ پاکستان کے اُن تین صدور میں سے ایک ہیں جن کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ ڈاکٹر علوی کے پیشرو صدر ممنون حسین کا خاندان آگرہ سے پاکستان آیا تھا جبکہ ایک اور سابق صدر پرویز مشرف کے والدین نے دہلی سے پاکستان ہجرت کی تھی۔

ڈاکٹر عارف علوی کے والد ڈاکٹر حبیب الرحمان الٰہی علوی قیامِ پاکستان سے پہلے نہرو کے ذاتی ڈینٹسٹ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اُنہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کر لی اور صدر کے علاقے میں اپنا مطب کھول لیا۔ یہیں 1949 میں ڈاکٹر عارف علوی کی پیدائش ہوئی۔

ڈاکٹر علوی نے اپنے والد کی طرح ڈینٹسٹ کا پیشہ اختیار کیا۔ اُنہوں نے لاہور کے مشہور ڈی مانٹ مورینسی کالج آف ڈینٹسٹری سے بی ڈی ایس کیا۔ بعد میں اُنہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف مشی گن سے ڈینٹسڑی کے شعبہ پراستھوڈونٹکس میں ایم ایس سی اور پھر سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف پیسفک سے آرتھوڈونٹکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

1997 میں ڈاکٹر علوی کو امریکن بورڈ آف آرتھوڈونٹکس کا سفیر مقرر کیا گیا۔ اسی سال وہ پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کے صدر مقرر ہوئے۔ وہ 2006ء میں ایشیا پیسفک ڈینٹل فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔

اُن کے والد کا پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے خاندان سے بھی قریبی تعلق رہا۔ وہ قائدِ اعظم کی ہمشیرہ شیریں بائی جناح کی طرف سے قائم کردہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی مقرر ہوئے۔ اس ٹرسٹ میں شیریں بائی نے کراچی کے مہتا پیلیس سمیت اپنی تمام جائیداد وقف کر دی تھی۔

ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے زمانہ طالبِ علمی میں سیاست میں قدم رکھا جب وہ اُس وقت کے فوجی صدر ایوب خان کے خلاف مظاہروں میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکن کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ لاہور کی مال روڈ پر مظاہروں کے دوران اُن کے بازو میں گولی لگی جو اب بھی اُن کے بازو کے اندر موجود ہے۔

اُنہوں نے 1979ء میں جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ اپنی سیٹ نہ جیت پائے۔ بعد میں جب عمران خان نے تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی تو وہ اُس میں شامل ہو گئے۔ اُنہوں نے اس سیاسی جماعت کا منشور تیار کرنے میں بھی بھرپور حصہ لیا۔

اُنہوں نے 1997ء میں تحریکِ انصاف کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ 2006ء سے 2013ء تک تحریکِ انصاف کے جنرل سیکریٹری رہے۔ وہ 2013ء میں کراچی سے انتخاب جیت کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 2018ء کے انتخابات میں بھی اُنہوں نے اپنی قومی اسمبلی کی سیٹ جیت لی۔

ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے اور موجودہ صدر ممنون حسین کی مدت 8 ستمبر کو پوری ہونے کے بعد وہ 9 ستمبر کو پاکستان کے تیرھویں صدر کی حیثیت سے حلف اُٹھائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG