رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ، حکومت کا امدادی سرگرمیوں کی اجازت دینے سے گریز


قبائلی علاقوں سے فوجی کارروائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے بنوں کے ایک کیمپ سے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ فائل فوٹو

غیر ملکی امداد سے چلنے والی مقامی تنظیمیں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لگ بھگ 20 لاکھ افراد کو صحت کو دیکھ بھال، تعلیم اور خوراک جیسی ہنگامی نوعیت کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

پاکستان کے عسکریت پسندی سے متاثرہ شمال مغربی علاقے میں انسانی ہمددردی کے لیے کام کرنے والے امدادی گروپس کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ضرورت مند لوگوں تک امداد پہنچانے کی کارروائیوں کی اجازت نہ ملے سے عسکریت پسندی کی روک تھام میں ان کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

امدادی گروپس کا کہنا ہے کہ حکومت صوبہ خیبر پختون خوا کے عسکریت پسندی اور دهشت گردی سے شديد متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دینے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان علاقوں کے لیے جہاں اس وقت فوجی کارروائیاں جاری ہیں، این او سی حاصل کرنا تقربیاً نا ممکن ہے۔

غیر ملکی امداد سے چلنے والی مقامی تنظیمیں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لگ بھگ 20 لاکھ افراد کو صحت کو دیکھ بھال، تعلیم اور خوراک جیسی ہنگامی نوعیت کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں سے ان علاقوں میں کام کرنے کے لیے این او سی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں ان کی سرگرمیوں پر شديد منفی اثر پڑا ہے۔

ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان آرگنائزیشن کے صوبائی پروگرام منیجر شیر زمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت 15 سے زیادہ امدادی گروپس گذشتہ 7مہینوں سے صوبائی حکومت سے این او سی ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب کہ سرکاری قواعد کے مطابق اس کام پر دو یا تین ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں لگنا چاہیے۔

صوبائی حکومت کے ایک ترجمان مشتاق غنی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکام کو اس تاخیر کا علم ہے ۔ میں نے مختلف امدادی ایجنسیوں سے اس بارے میں شکایات سنی ہیں۔ میں وزارت داخلہ کے ساتھ اس مسئلے پر کام کررہا ہوں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ این او سی کے قواعد امدادی گروپس کی تصدیق کے لیے نافذ کیے گئے ہیں کیونکہ بعض عسکریت پسند گروپس اپنی دهشت گرد کارروائیاں، امدادی تنظیموں کی آڑ میں کر رہے تھے۔ اس لیے ہمیں کسی امدادی ایجنسی کو علاقے میں اپنی سرگرمیوں کے لیے غیر ملکی امداد حاصل کرنے سے پہلے ان کی اچھی طرح چھان بین کرنی ہوتی ہے۔

امدادی گروپس کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے وہ نوجوان بطور خاص متاثر ہورہے ہیں جو عسکریت پسندوں کی بھرتیوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امدادی تنظیموں پر پابندیوں کی وجہ سے پچھلے چند مہینوں کے دوران 6500 نوجوان بے روزگار ہو چکے ہیں۔

کچھ سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ امدادی گروپس پر پابندیوں کا مقصد غیر ملکی نگرانی سے بچنا ہے۔ کیونکہ پاکستانی فوج پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں وہ قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی رہی ہے۔

قبائلی افراد کی ترقی کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے عہدے دار شعبان علی کہتے ہیں کہ ہمیں حقیقتا امدادی اداروں کی جانب سے پیش قدمی کی ضرورت ہے تاکہ ہم لوگوں کو اپنے حقوق سے آگاہ کر سکیں اور ان میں حکومت سے اپنی بنیادی ضرورتوں کا مطالبہ کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG