رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: مزید نو مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا


بدھ کو دی جانے والی پھانسیوں کے بعد گزشتہ دسمبر سے اب تک تختہ دار پر لٹکائے گئے مجرموں کی تعداد 48 ہو گئی ہے۔

پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد مجرموں کو پھانسیاں دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور سزائے موت کے مزید نو مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

یہ پھانسیاں پنجاب کی مختلف جیلوں میں بدھ کو علی الصبح دی گئیں۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قتل و اقدام قتل کے دو مجرموں شوکت علی اور محمد شبیر کو پھانسی دی گئی۔

اٹک کی سنٹرل جیل میں اسد محمود خان کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ اسے یہ سزا 2002ء میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کو قتل کرنے پر سنائی گئی تھی۔

میانوالی کی جیل میں احمد نواز کو تختہ دار پر لٹکایا گیا جس نے 1998ء میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔

فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں دو مجرموں شفقت اور سعید کو پھانسی دی گئی ان دونوں نے اپنے دو رشتے داروں کو دیرینہ دشمنی پر 17 سال قبل قتل کیا تھا۔

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں طاہر شبیر نامی مجرم کو پھانسی دی گئی۔ اسے 2002ء میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ طاہر نے دکان پر بورڈ لگانے کے ایک معمولی تنازع پر ارشاد علی نامی شخص کو قتل کر دیا تھا۔

جھنگ میں بھی قتل کے دو مجرموں تختہ دار پر لٹکایا گیا جن میں غلام محمد اور ذاکر حسین شامل ہیں۔

ان تمام مجرموں کی اپنی سزاوں کے خلاف تمام اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔

تین ماہ کے دوران پاکستان کی مختلف جیلوں میں اب تک 48 مجرموں کو پھانسیاں دی جا چکی ہیں۔

17 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں سازئے موت کے مجرموں کی پھانسیوں پر چھ سال سے عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا کہ قانون کے مطابق دی جانے والی سزاؤں پر عملدرآمد پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں از حد ضروری ہے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں خاص طور پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے پابندی برقرار رکھ کے بھی دیکھا ہے لیکن غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے، (جرائم کی روک تھام) ہونی چاہیے۔۔۔وہ اپنے حالات سے متعلق بات کریں۔"

یورپی یونین نے بدھ کو اپنے ایک تازہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس کرتے ہوئے سزائے موت پر عملدرآمد کے فیصلے کو واپس لے۔

تاہم غیر جانبدار مبصرین بھی پھانسیوں کے خلاف بین الاقوامی مطالبات پر اپنے ردعمل میں کہتے ہیں کہ یورپ اور پاکستان کے سماجی حالات میں بہت فرق ہے اور ان ممالک کو پاکستان کے معروضی حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

دفاعی و سلامتی کے امور کے سینیئر تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سخت سزاؤں پر عملدرآمد معاشرے میں جرائم کے خلاف روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

"یورپی یونین کیا بات کرتی ہے، یوکرین میں کیا ہورہا ہے، سربیا میں کیا ہوا تھا، کروئشیا میں کیا ہوا تھا دیکھیے یہ بڑا آسان ہوتا ہے کہ آپ بات کر دیں۔۔۔جب فرانس میں جو تحریک چل رہی تھی سیکرٹ آرمی آرگنائزیشن جسے کہتے تھے تو یہ کیا کرتے تھے کہ ان کے بندوں کو لاتے اور اتنے شواہد بھی پورے نہیں کرتے تھے جتنے ہم کر رہے ہیں اور انھیں سزائے موت دے دیتے تھے، تو اپنے وقت پر تو انھوں نے جو مرضی آئی کیا اورہمارے وقت پر انھیں انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں۔"

ادھر اغوا اور قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ایک مجرم شفقت حسین کے اہل خانہ اس کا پیدائشی سرٹیفیکٹ منظر عام پر لائے ہیں جس کے مطابق مجرم کو جب 2004 میں سزا سنائی گئی تو اس کی عمر تیرہ سال اور چھ ماہ تھی۔ انھوں نے حکومت سے مجرم کی پھانسی کو روکنے کی استدعا کی ہے۔

شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں اور اسے جمعرات کو کراچی کی جیل میں پھانسی دی جانی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شفقت حسین کے مقدمے میں قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور میبنہ طور پر ایک نوعمر لڑکے کا مقدمہ بچوں کے لیے رائج نظام عدل کے تحت نہیں چلایا گیا، لہذا اس کی سزائے موت کو روکتے ہوئے مقدمے کی از سر نو کارروائی شروع کی جائے۔

ایک روز قبل ہی وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا کہ مجرم کی کم عمری سے متعلق کوئی مصدقہ ثبوت اگر سامنے آتا ہے تو وہ اس معاملے پر غور کریں گے۔

شفقت حسین کی پھانسی کا وقت قریب آتا جارہا ہے لیکن اب تک منظر عام پر آنے والے برتھ سرٹیفیکٹ پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG