رسائی کے لنکس

logo-print

نقل مکانی کرنے والے 450 خاندانوں کی خوست سے واپسی


یہ افراد شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث سرحد پار افغانستان چلے گئے تھے۔

پشاور میں عہدیداروں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے سرحد پار افغانستان کے صوبہ خوست چلے جانے والوں میں سے تقریباً 450 خاندان وطن واپس آئے ہیں، جن کا پشاور میں اندارج کیا گیا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے علاقائی ادارے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے عہدیدار شاہد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائل کے لوگ کرم ایجنسی کے راستہ پشاور پہنچے ہیں۔

’’ان کے مقامی گاؤں والوں نے بتایا ہو گا یا وہاں پر مختلف قبائلی لوگوں نے بتایا ہو گا کہ اگر آپ کے پاس رجسٹریشن کا ٹوکن نہ ہوا تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو (آپریشن ختم ہونے پر اپنے علاقوں میں) واپس نا جانے دیا جائے۔ اس وجہ سے یہ پریشان تھے اور یہاں پر پہنچے۔‘‘

اُدھر شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی پشاور میں رجسٹریشن کا پہلا مرحلہ پیر کو مکمل ہو گیا ہے۔ سات جولائی کو پشاور میں متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اب تک پشاور میں 38 ہزار افراد کا انداج کیا گیا ہے اور اب ان کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد قبائلی علاقوں سے متصل خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع خاص طور پر بنوں پہنچی تھی، جہاں اُن کے لیے ایک کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔ لیکن بعد میں بڑی تعداد میں لوگ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں اپنے عزیز و اقارب کے ہاں منتقل ہو گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کا اندارج کیا جا چکا ہے لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کیوں کہ بعض افراد نے ایک سے زائد مرتبہ اپنا اندارج کروایا اس لیے اب کوائف کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی درست تعداد معلوم ہو سکے۔

نقل مکانی کرنے والوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں جب کہ حکومت پاکستان کے علاوہ اقوام متحدہ کے کئی ذیلی ادارے بھی ان متاثرہ خاندانوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG