رسائی کے لنکس

’جاسوسی میزبان ملک کی مرضی سے نہیں کی جاتی‘


رحمن ملک (فائل فوٹو)
رحمن ملک (فائل فوٹو)

ناروے کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی کا انکشاف ناروے کے داخلی سلامتی سے متعلق ادارے ’پی ایس ٹی‘ کی سربراہ جین کرسٹیانسن نے بدھ کو ایک پارلیمانی کارروائی کے دوران کیا تھا اور ریاست کے اس حساس راز کو افشا کرنے پر اُنھیں چند گھنٹوں بعد ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

پاکستان نے اپنی سرزمین پر ناروے کے جاسوسی نیٹ ورک کی موجودگی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں میزبان حکومت کی مرضی اور اجازت کے بغیر کی جاتی ہیں۔

ناروے کے اعلیٰ حکام کے اس انکشاف کے بعد کہ اُن کی داخلی سلامتی کے ادارے کے خفیہ ایجنٹ پاکستان میں سرگرم عمل ہیں، اس معاملے سے متعلق حقائق منظر پر لانے کے لیے پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

جمعہ کو سینیٹ یعنی ایوان بالا کے اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ رضا ربانی نے ناروے کے خفیہ نیٹ ورک کی ملک میں موجودگی کا معاملہ آٹھاتے ہوئے حکومت سے اس کی مزید وضاحت طلب کی۔

اُن کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ایوان میں موجود وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ ایسے اُمور کی تفصیلات پاکستانی خفیہ ایجنسیوں، آئی ایس آئی اور آئی بی، کے پاس ہوتی ہیں، جنھیں حاصل کرنے کے بعد وہ پارلیمان کو ان سے آگاہ کریں گے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے پر مزید اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ’’کسی ملک میں جاسوسی کبھی (اُس کی) حکومت کی مرضی سے نہیں ہوتی، مختلف ایجنسیوں نے ہر ملک میں کوئی نا کوئی نظام قائم کیا ہوتا ہے۔ پاکستان کا تمام ملکوں کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے لیکن کسی کو ہمارے ملک میں آکر جاسوسی کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔‘‘

رحمٰن ملک نے کہا کہ اندرونی و بیرونی سلامتی سے متعلق پاکستانی ادارے اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں اور ماضی قریب میں اُن ہی کی نشاندہی پر کئی غیر ملکی جاسوسوں کو ’’ناپسندیدہ شخصیت‘‘ قرار دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔

’’ہم نے بہت سے لوگ پکڑے ہیں جو جعلی کاغذات پر (پاکستان) آتے ہیں اور ان کو ہم ملک بدر کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے خفیہ ادارے متحرک ہیں۔‘‘

ناروے کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی کا انکشاف ناروے کے داخلی سلامتی سے متعلق ادارے ’پی ایس ٹی‘ کی سربراہ جین کرسٹیانسن نے بدھ کو ایک پارلیمانی کارروائی کے دوران کیا تھا اور ریاست کے اس حساس راز کو افشا کرنے پر اُنھیں چند گھنٹوں بعد ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

ایک روز قبل دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا تھا کہ پاکستان اس بارے میں تفصیلات کے حصول کے لیے ناروے سے رابطے میں ہے۔

دہشت گردی کے خلاف 2001ء میں شروع ہونے والی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد سے پاکستان پر اندرون ملک مسلسل یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ مغربی ملکوں کے جاسوس مبینہ طور پر پاکستانی سرزمین پر سرگرمیاں کر رہے ہیں جن سے حکومت لا علم ہے۔

ان قیاس آرائیوں کو گزشتہ سال کے اوائل میں اُس وقت تقویت ملی جب امریکی سی آئی اے کے لیے نجی حیثیت میں کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو لاہور میں دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔

تحقیقات کے دوران پاکستانی حکام پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ واشنگٹن کے دعوؤں کے برعکس اس امریکی شہری کے پاس سفارتی ویزہ نہیں تھا۔

امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے سے مبینہ طور پر امریکیوں کو سینکڑوں ایسے ویزوں کے اجرا کا معاملہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت اور پاکستان کی فوجی قیادت کے درمیان تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے اہم اسباب میں سے ایک ہے تاہم حکومت ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG