رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت فرانس جوہری تعاون عالمی سلامتی پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے


ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کے ناطے اس شعبے میں دو طرفہ تعاون سے جہاں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے وہیں ملک میں امریکہ کے بارے میں بد گمانیوں کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان نے کہا ہے کہ فرانس اور بھارت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ناصرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی امن پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو خصوصی رعایت دینا جوہری تعاون کے فروغ کی بین الاقوامی کوششوں کی نفی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امتیازی اقدامات بدگمانیوں کو جنم دیتے ہیں۔

ترجمان کے بقول پاکستان نے جوہری شعبے میں ترقی کے لیے ہمیشہ قوائد کی پاسداری کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون اور عالمی امن و خوشحالی کے لیے متعین کردہ اصولوں پر مبنی حکمت عملی کا کوئی مثبت متبادل نہیں ہو سکتا۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے دورہِ بھارت کے دوران پیر کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ نو ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بھارتی ریاست مہاراشٹر میں دو جوہری ری ایکٹر نصب کیے جائیں گے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3,300 میگا واٹ ہو گی۔

اس سے قبل مارچ 2006 ء میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ بھی سول جوہری معاہدہ کیا تھا۔ اگرچہ پاکستان نے اس معاہدے کی مخالفت نہیں کی لیکن وہ امریکہ سے بدستور یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے واشنگٹن اُسے پر امن مقاصد کے استعمال کے لیے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرے۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کے ناطے اس شعبے میں دو طرفہ تعاون سے جہاں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے وہیں ملک میں امریکہ کے بارے میں بد گمانیوں کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس سال مارچ میں وزارتی سطح کے اسٹریٹیجک مذاکرات کے آغاز کے بعد توانائی کے شعبے میں پاک امریکہ تعاون کے معاملے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تاہم بات چیت قابل تجدید توانائی کے حصول پر کی جا رہی ہے اور اب تک جوہری شعبے میں پاک امریکہ تعاون کا موضوع بظاہر زیر بحث نہیں آیا ہے۔

پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے خدشات اور تحفظات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرتا ہے اور اُس کا موقف ہے کہ یہ پروگرام اُتنا ہی محفوظ ہے جتناکہ جوہری صلاحیت رکھنے والے ترقی یافتہ ملک میں ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG