رسائی کے لنکس

logo-print

بن لادن کی آخری پناہ گاہ کی زمین سرکاری تحویل میں


ایبٹ آباد میں واقع بن لادن کی پناہ گاہ

اس جائیداد کا مالک بن لادن کا پیغام رساں تھا جو باور کیا جاتا ہے کہ امریکی کارروائی میں بن لادن کے ساتھ مارا گیا۔

پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سابق رہنما اُسامہ بن لادن کی آخری پناہ گاہ کی زمین کا کوئی دعویدار نا سامنے آنے کے بعد حکومت نے جائیداد کو ضبط کر لیا ہے۔

ہزارہ ڈویژن کے کمشنر خالد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے رواں سال فروری میں اس زمین پر بنائی گئی تین منزلہ عمارت کو مسمار کر دیا گیا تھا اور اب قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد زمین کا یہ ٹکڑا سرکار کے نام کر دیا گیا ہے۔

’’اخبار میں اشہتار دے کر اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی… ہم نے 15 دن انتظار کیا مگر کوئی (دعویدار) نہیں آیا، اس کا مطلب ہے کہ اس (زمین) کا کوئی مالک نہیں رہا تو لہذا ہم نے وہ سرکار کے نام پر کر دی۔‘‘

خالد خان نے بتایا کہ اب اس زمین پر سرکاری افسران کے لیے رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں گی۔
’’میں نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ اس پر اپنے افسران کے لیے گھر اور فلیٹ بناؤں گا۔ ہمارے پاس افسران کے گھروں اور ان کے لیے بہتر فلیٹس کی قلت ہے، اس لیے (یہاں وہ) تعمیر کیے جائیں گے۔‘‘

باور کیا جاتا ہے کہ بن لادن 2005ء میں ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں واقع اس زمین پر بنائے گئے تین منزلہ گھر میں منتقل ہوا تھا۔

امریکہ کے انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز نے گزشتہ سال دو مئی کو رات کی تاریکی میں خفیہ کارروائی کرکے القاعدہ کے مفرور رہنما کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس جائیداد کا مالک بن لادن کا پیغام رساں تھا جو باور کیا جاتا ہے کہ امریکی کارروائی میں بن لادن کے ساتھ مارا گیا۔
XS
SM
MD
LG