رسائی کے لنکس

افغان پناہ گزینوں کے خلاف غیر معمولی کارروائیوں کا دعویٰ


فائل فوٹو

پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ مہلک حملوں کے بعد ملک بھر میں مشتبہ افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والی سکیورٹی آپریشنز کے دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں اور خاص طور پر صوبہ پنجاب میں مقیم افغان مہاجرین کو ناصرف مبینہ طور پرہراساں کیا جارہا ہے بلکہ خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین اور قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ' شارپ" کے ایک عہدیدار مدثر جاوید کا کہنا ہے انہیں صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں سے روزانہ متعدد افغان مہاجرین کی طرف سے ایسی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پولیس ان سے مبینہ طور پر سختی کا برتاؤ کر رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ گزشتہ ماہ سے صوبے سے لگ بھگ چار سو سے زائد ان افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا جن کے پاس ان کے بقول قانونی دستاویز موجود تھیں۔

"ابھی تقریباً ساڑھے چار پانچ سو (افغان) لوگوں کو پورے پنجاب میں حراست میں لیا گیا ہے ان میں سے ایک سو سے زائد وہ لوگ ہیں جو صادق آباد اور رحیم یار خان میں مقیم تھے جن کے پاس پی او آر (پروف آف رجسٹریشن) کارڈز بھی تھے اور پھر بھی پولیس اہلکاروں نے ان کے کارڈز کو گم کر کے انہیں پکڑ لیا اور ان کا چالان کر دیا ہمارے وکیل انہیں چھڑانے کے لئے گئے اور انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس کارڈز نہیں حالانکہ ان کے پاس (پہلے ) کارڈز تھے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی معلومات کے مطابق حراست میں لئے گئے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

" پہلی بار یہ صورت حال سامنے آئی ہے، پہلے کبھی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خاص طور پر پولیس ہی زیادہ تر انہیں گرفتار کرتی ہے اور اس سے پہلے عورتوں اور بچوں کو نہیں پکڑتے تھے لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ رحیم یار خان اور صادق آباد سے 30 یا 35 کے قریب عورتوں اور بچوں کو انہوں نے حراست میں لیا ہے۔"

تاہم صوبہ پنجاب کے حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں کسی خاص گروپ کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔

پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنا اللہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ"13 فروری کے بعد سے انٹیلی جنس کی معلومات کی بنیاد پر جو سیکورٹی آپریشن ہوئے ہیں ان میں تقریباً دو ڈھائی لاکھ کے قریب لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور ان میں صرف چند سو افغان ہیں اور وہ یہ کس طرح یہ کہتے ہیں کہ یہ کسی مخصوص طبقہ یا چند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے باقی دو ڈھائی لاکھ لوگ سب پنجاب سے ہیں ان سے بھی تلاشی اور پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ صرف انہیں لوگوں کے خلاف کارروائی کی جارہی جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

" کچھ دن پہلے کی اعدادوشمار کے مطابق تقریباً ساڑھے چار سو لوگوں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات قائم ہوئے ہیں، کسی سے اسلحہ برآمد ہوا کسی سے منشیات پکڑی گئیں ۔۔۔ اور ان میں 13 یا 14 افغان ہیں باقی سب کا تعلق پنجاب سے ہے۔"

پاکستان میں تقریباً 13 لاکھ افغان پناہ گزین اندراج کے ساتھ قانونی طور پر رہ رہے ہیں جب کہ اتنی ہی تعداد میں افغان باشندے غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جبکہ پنجاب میں مقیم افغان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

مدثر جاوید کا کہنا ہے پاکستان میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو افغان مہاجرین کو پولیس کی طرف سے ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے افغان مہاجرین کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

لیکن پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے صوبے میں قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو نشانہ بنانے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایسی کوئی شکایت سامنے آتی ہے تو حکام اس کا فوری نوٹس لیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG