رسائی کے لنکس

logo-print

اپوزیشن کے رابطے شروع، کیا حکومت مخالف تحریک چل سکے گی؟


مریم نواز اور بلاول بھٹو، فائل فوٹو

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہی ہیں اور اس سلسلے میں ایک اہم ملاقات ہونے جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی طرف سے دیئے جانے والے افطار ڈنر میں خصوصی طور پر شرکت کریں گی۔

اتوار کی اس ملاقات میں اہم سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں حکومت مخالف تحریک پر بھی بات چیت ہو گی اور تحریک کے ممکنہ اہداف پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو افطار ڈنر پر بلایا جائے گا، جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے خود ٹیلی فون کر کے مریم نواز کو افطار کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کا ایک وفد اس افطار ڈنر میں شرکت کرے گا۔ اس موقع پر مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان یہ پہلی سیاسی ملاقات ہو گی۔

اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے اس سال مارچ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات اور ان کی عیادت کی تھی۔ جیل میں نواز شریف کی عیادت کرنے پر مریم نواز نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا تھا۔ مریم نواز کی ٹوئٹ کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ میں آپ کے والد کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جب اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلانے پر متفق نظر آ رہی ہیں تو اس صورت حال میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔

تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ابھی فوری طور پر دونوں جماعتیں کوئی تحریک شاید نہ چلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تمام اپوزیشن جماعتیں اس قدر تیار نہیں کہ فوری طور پر تحریک چلا سکیں۔ میرے اندازے کے مطابق یہ جماعتیں دسمبر سے قبل تحریک نہیں چلائیں گی کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگر یہ ناکام ہو گئیں تو پھر دوبارہ اٹھ نہیں سکیں گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) فی الوقت اس بات پر متفق ہیں کہ عیدالفطر کے بعد حکومت مخالف بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور تحریک چلائی جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز ہی پارٹی رہنماؤں کو حکومت مخالف تحریک چلانے کی اجازت دی تھی۔ ن لیگ نے عیدالفطر کے بعد سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی ف نے بھی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہہ چکے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سڑکوں پر حکومت مخالف تحریک چلائیں گے۔

کالم نگار مظہربرلاس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی صورت حال اگرچہ مشکل میں ہے، لیکن یہ سب کچھ بھی اپوزیشن کی وجہ سے ہے اور عوام کے ذہن میں یہ بات موجود ہے کہ آج کی صورت حال کا سبب ماضی کی حکومیں ہیں لہذا کوئی تحریک چلتی نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر پر تحریکیں نہیں چلتیں۔ دوسرا پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر بھی قیادت کے حوالے سے سمجھ نہیں آ رہا کہ نواز اور شہباز کی عدم موجودگی میں شاہد خاقان عباسی لیڈر ہیں، راجہ ظفر الحق ہیں یا پھر مریم نواز لیڈ کر رہی ہیں۔ کارکنوں کو بھی اس بارے میں کوئی علم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی صورت حال بہت خراب ہے لیکن اگر عوام کو کوئی ریلیف مل گیا تو ان کی تحریک ناکام ہو جائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری گزشتہ رات اچانک مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچ گئے جہاں حکومت مخالف سیاسی تحریک چلانے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ سب چور اکٹھے ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد یہ نکلنے کا پروگرام بنا رہے ہیں، لیکن یہ نکلے تو انہیں لگ پتا جائے گا۔

ملک میں جاری معاشی بحران اور مہنگائی سے اپوزیشن جماعتیں فائدہ اٹھا کر عوام کو سڑکوں پر لا سکتی ہیں، لیکن اس سلسلے میں تمام جماعتوں کا آپس میں متفق ہونا ضروری ہے۔

مریم نواز کی بلاول سے ملاقات اگرچہ پہلی ہے، لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کے تعلقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر تحریک چلا سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG