رسائی کے لنکس

پاناما لیکس: عدالتی سماعت سے قبل فریقین کے ایک دوسرے پر الزامات


عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان نے کہا کہ انھیں وزیراعظم کے بچوں کے مبینہ غیرملکی اثاثوں سے متعلق مزید ثبوت حاصل ہوئے ہیں جن سے ان کے بقول پتا چلتا ہے کہ مریم نواز شریف آف شور کمپنیوں کی مالکن ہیں۔

پاناما لیکس کے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت تو بدھ کو شروع ہونے جا رہی ہے لیکن حسب روایت فریقین کی طرف سے منگل کو ایک بار پھر ذرائع ابلاغ پر ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور الزامات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کے بچوں کے نام غیرملکی اثاثے رکھنے والوں کی فہرست میں آنے کے بعد سے ان پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رکھا تھا جب حکمران جماعت ان الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دائر درخواستوں پر سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ اس معاملے کی آخری سماعت نو دسمبر کو ہوئی تھی لیکن چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی مدت ملازمت ختم ہونے پر اب نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے ہیں۔

نئے چیف جسٹس ثاقب نثار اس بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔

منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انھیں وزیراعظم کے بچوں کے مبینہ غیرملکی اثاثوں سے متعلق مزید ثبوت حاصل ہوئے ہیں جن سے ان کے بقول پتا چلتا ہے کہ مریم نواز شریف آف شور کمپنیوں کی مالکن ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)
وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

انھوں نے ایک بار پھر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالت میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں مبینہ طور پر دروغ گوئی سے کام لیا اور عمران خان کے بقول وزیراعظم کے خاندان کی لندن میں جائیداد سے متعلق عدالت عظمیٰ میں پیش کیا گیا خط بھی "فراڈ" تھا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تحریک انصاف پر عدالت میں الزامات کے ثبوت عدالت فراہم نہ کرنے کے دعوؤں پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حزب مخالف حکومت سے جواب طلب کرتی ہے جب کہ ثبوت فراہم کرنا اداروں کا کام ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی حکمران جماعت کے سینیئر ارکان نے بھی پریس کانفرنس کی جس میں ایک بار پھر عمران خان کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر "قوم کو گمراہ" کر رہے ہیں۔

حکومتی عہدیدار محمد زبیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ذرائع ابلاغ میں فضا بنانے کی بجائے یہ الزامات عدالت میں ثابت کرنے چاہیئں۔

XS
SM
MD
LG