رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین و اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے: سینیٹ


متحدہ کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کا مقصد حکومت کو چوکس کرنا ہے کہ ان نکات پر سمجھوتہ نا کرے کیونکہ ’’یہ پاکستانی عوام کو بھی منظور نہیں ہوگا‘‘۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بدھ کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں سے جاری بات چیت میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی صورت خواتین اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار نا ہوں اور تعلیم و صحت تک رسائی سمیت انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو۔

متحدہ کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کا مقصد حکومت کو چوکس کرنا ہے کہ ان نکات پر سمجھوتہ نا کرے کیونکہ ’’یہ پاکستانی عوام کو بھی منظور نہیں ہوگا‘‘۔

’’طالبان کا نقطہ نظر پوری دنیا کو پتا ہے اور جو ان سے مذاکرات کررہے ہیں وہ اس غلط فہمی میں نا رہیں کہ وہ خواتین کے حقوق دیں گے یا انہیں قومی دھارے میں آنے دیں گے۔ ان کی سوچ نا صرف دقیانوسی بلکہ ہمارے خیال میں اسلام کے بھی خلاف ہے۔‘‘

طالبان کی سیاسی شوریٰ سے ان کے اپنے ایک مذاکرات کار کی ابتدائی ملاقات کے بعد سرکاری مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کا حکومت کے مطالبات پر جواب ان کے بقول مثبت رہا۔ تاہم دونوں فریق اس بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کررہے ہیں۔

سینیٹ میں متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری کے بعد حکومت کی اتحادی مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایوان بالا کے رکن مولانا غفور حیدری نے اسے غیر ضروری اقدام قرار دیا۔

’’اگر جو اسلام اور حضرت محمد کی تعلیمات پر یقین رکھتا ہے تو وہ تو ایسا نہیں کر سکتا۔ تو یہ سارے امکانات ہیں۔ بلاوجہ ایک بات اٹھانی ہے اور کارروائی ڈالنی ہے۔‘‘

تاہم پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد وقت کی ضرورت ہے۔

’’ایسا لگتا ہے کہ ادھر بھی طالبان بیٹھے ہیں اور ادھر بھی۔ میرا خیال میں یہ نا ہو کہ کل (کہیں) بچیاں اسکول نہیں جا سکیں جیسے ہم نے سوات میں دیکھا، کابل میں دیکھا۔‘‘

حالیہ دنوں میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں تواتر سے تشدد کی کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں تاہم دونوں مذاکراتی ٹیمیں اور حکومت کے عہدیدار انہیں بات چیت کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش گردانتے ہیں۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا۔

’’جیسے جرائم پیشہ عناصر کے مختلف گروہ ہوتے ہیں اسی طرح تحریک طالبان پاکستان والے تمام دہشت گرد گروہوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ کچھ لوگ ہیں جو شاید ان سے اختلافات رکھتے ہیں یا ان سے علیحدہ ہو تو یہ ان کی کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔‘‘

مذاکرت کار یہ کہہ چکے ہیں کہ دونوں طرف سے جنگ بندی پر آمادگی دکھائی دیتی ہے تاہم اس کے باقاعدہ اعلان اور نفاذ کے وقت کے بارے میں ان کے بقول ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ مذاکرات کاروں کی ملاقات آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
XS
SM
MD
LG