رسائی کے لنکس

صدر زرداری کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب


ہفتہ کو پانچویں پارلیمانی سال کے آغاز پر دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران پیپلز پارٹی کی زیرقیادت مخلوط حکومت نے جمہوریت کے فروغ، معاشی استحکام اور امن و امان کے قیام کے لیے جو کوششیں کی ہیں ان سے حالات میں بہتری آئی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صدر زرداری پہلے منتخب صدر مملکت ہیں جنہوں نے ایک ہی پارلیمنٹ سے مسلسل پانچویں بار خطاب کیا۔

صدر کے خطاب کے دوران تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف، صوبائی گورنروں سمیت پاکستان میں تعینات غیر ملکی سفیروں کی ایک بڑی تعداد بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھی۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ 2010ء میں تباہ کن سیلابوں اور اس کے بعد 2011ء میں غیر معمولی بارشوں کے علاوہ درآمد کیے جانے والے تیل کی قمیتوں میں تیزی سے اضافہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بڑے چیلنج رہے۔

تاہم ان کے بقول اس کے باوجود گزشتہ چار سالوں کے دوران حکومت نے 2200 ارب روپے خرچ کر کے 200 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔

صدر نے موجودہ پارلیمان کی جانب سے کی گئی قانون سازی خاص طور پر خواتین کے تحفظ کے لیے منظور کیے گئے قوانین کا ذکر کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پانچویں پارلیمانی سال میں پاکستان آزادنہ اور شفاف انتخاب دیکھے گا۔

’’ہم نے جمہوریت کو مزید شفاف بنانے اور انتخابات کو منصفانہ اور آزاد بنانے کے لیے پیش رفت کی۔ بیسویں آئینی ترمیم الیکشن کمیشن کی آزادی اور پارلیمنٹ میں مشاورت کے عمل کے ساتھ ایک غیر جانبدارانہ نگران حکومت کے انتخاب کو بھی یقینی بناتی ہے‘‘۔

دہشت گردی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ایک چھوٹے گروہ کی سوچ سے لڑنے کے لیے حکومت نے معاشرے کو متحرک کیا اور انتہا پسندوں کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

اُنھوں نے دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے حالات میں بہتری آئی ہے۔

توانائی کے بحران کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

بلوچستان کے بارے میں ان کا تھا کہ حکومت بلوچستان کے عوام کی مشکلات کو محسوس کرتی ہے اور بلوچ عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لیے آغاز حقوق بلوچستان پر عمل درآمد جاری ہے۔

’’ماضی کے زخموں کو بھرنے کے لیے ہم بلوچ بھائیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ پارلیمانی نگرانی اور جمہوری احتساب بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا ایک نیا اور اہم پہلو ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اُنھوں نے کہا ۔

’’پاک امریکہ تعلقات کثیر الجہتی اور بڑے اہم ہیں، 2011ء ایک بڑا مشکل سال تھا۔ ہم امریکہ کے ساتھ باہمی مفاد اور عزت و احترام پر مبنی بامقصد تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں‘‘۔

صدر نے کہا کہ حکومت امریکہ سے تعلقات کی بحالی کے لیے پارلیمان کی سفارشات کی منتظر ہے۔

صدر زرداری کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب جوں ہی شروع ہوا تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے۔

XS
SM
MD
LG