رسائی کے لنکس

امریکی بیانات کا متوازن جواب دینا ہو گا: ایاز صادق


خواجہ آصف نے رواں ہفتے قومی سلامتی کمیٹی اور کابینہ کے اجلاسوں میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں بھی پارلیمنٹ کی مشترکہ قومی سلامتی کمیٹی کو اعتماد میں لیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان سے متعلق سخت بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کے لیے جمعرات کو پارلیمنٹ کی مشترکہ قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا۔

تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں وزیرِ خارجہ خواجہ آصف اور دیگر عہدیداروں نے شرکا کو پاک امریکہ تعلقات پر بریفنگ دی۔

خواجہ آصف نے رواں ہفتے قومی سلامتی کمیٹی اور کابینہ کے اجلاسوں میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں بھی پارلیمنٹ کی مشترکہ قومی سلامتی کمیٹی کو اعتماد میں لیا۔

اجلاس کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی تھی اور تمام جماعتیں قومی سلامتی سے متعلق اُمور پر متحد ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ کسی غیر معمولی صورتِ حال میں پاکستان کے ممکنہ جواب پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس معاملے پر غور کے لیے ایک اور اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’خدشات ایسے نہیں تھے۔ اس طرح کے بیانات کیوں آ رہے ہیں اس کو دیکھا جائے اور ہمیں بہت متوازن جواب دینا چاہیے۔ ہمیں پاکستان کی عظمت بھی قائم رکھنی ہے اور پاکستان کے وقار کو بھی مجروح نہیں ہونے دینا اور انگیجمنٹ بھی کرنی ہے۔‘‘

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی نے دو روز قبل اپنے اجلاس میں امریکی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کے پاکستان سے متعلق بیانات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیرِ دفاع خرم دستیگر خان نے کہا تھا کہ ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ہم اپنی حکمتِ عملی ترتیب دے رہے ہیں۔

’’پاکستان کے تحفظ سے متعلق ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کا دفاع موجود ہے۔ صرف سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس قسم کی غیر معمولی حرکت نہ کر دے جس سے ہمیں نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کے لیے ہم بالکل تیار ہیں۔‘‘

بعد ازاں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت بدھ کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی تھی۔

کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ سے آنے والے بیانات دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے آغاز پر اپنی پہلے ہی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اُن کے ملک نے پاکستان کو گزشتہ 15 برسوں میں 33 ارب ڈالر بطور امداد فراہم کیے جس کے بدلے اُن کے بقول پاکستان سے امریکہ کو صرف ’’دھو کہ اور جھوٹ ہی ملا۔‘‘

پاکستانی حکام کا موقف رہا ہے کہ امداد سے متعلق امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار درست نہیں کیوں کہ پاکستانی حکام کے بقول اس میں سے بیشتر رقم جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں ’’اتحادی اعانتی فنڈ‘‘ کے تحت ادا کی گئی۔

ترک صدر کا پاکستانی ہم منصب کو ٹیلی فون

ایوانِ صدر سے بدھ کی شب جاری بیان کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ٹیلی فون پر صدر ممنون حسین سے رابطہ کیا اور امریکہ کے صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر پاکستان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

بیان کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ پاکستان کی قربانیوں کے باوجود ’’امریکی صدر کا طرزِ عمل ناپسندیدہ ہے.‘‘

بیان کے مطابق صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی ’’ہر قسم کے حالات میں پاکستان کے ساتھ ہے۔‘‘

ترک ہم منصب سے گفتگو میں صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو اُن کے بقول امریکی پیغام کا مناسب جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انگیجمنٹ اور تعاون کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے لیکن اس کے جذبات کی قدر نہیں کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG