رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندوں سے مذاکرات آئینی حدود میں ہونے چاہیئں:جنرل کیانی


پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کے عمل کے ذریعے دہشت گردی کے مسئلے کے حل کی صورت نکلتی ہے تو ’’فوج کو سب سے زیادہ خوشی ہو گی‘‘۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ فوج دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت کرتی ہے لیکن اُن کے بقول اس مسئلے کا حل ’’آئین کے اندر رہتے ہوئے‘‘ ڈھونڈا جانا چاہیئے۔

شمالی شہر ایبٹ آباد میں فوج کی مرکزی تربیت گاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے)، کاکول، میں تربیت مکمل کرنے والے افسران سے ہفتہ کو خطاب میں جنرل کیانی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی قیادت نے مذاکرات کے راستے کا انتخاب کیا۔

’’یہ نہایت اہم ہے کہ حل کا یہ عمل آخر کار قوم میں یکسوئی لائے نا کہ تقسیم۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ڈھونڈا جائے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اگر اس عمل کے ذریعے حل کی صورت نکلتی ہے تو پاکستان فوج کو سب سے زیادہ خوشی ہو گی۔

’’قوت کا استعمال بہر حال آخری حربہ ہے، لیکن اگر اس کی ضرورت پڑتی ہے تو فوج اس کے موثر استعمال کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘


بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) جب کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی حکومتیں مذاکراتی عمل سے متعلق تذبذب کا شکار ہیں، جب کہ دوسری جانب طالبان شدت پسندوں کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعطم نواز شریف نے رواں ہفتے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ حکومت مذاکرات کے عمل میں ’’خلوص نیت‘‘ سے آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہے کیوں کہ اُن کے بقول ’’اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں‘‘۔

ملک صورت حال کے بارے میں جنرل کیانی نے کہا کہ پاکستان کو بلا شبہ بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن اُن کے بقول ان پر قابو پانے کے لیے ملک کے تمام اداروں میں ہم آہنگی بالخصوص سول اور عسکری روابط ضروری ہیں۔

’’ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیئے کہ یہ مسائل چند ماہ یا سالوں میں حل نہیں ہوں گے، اس کے لیے قوم کے ہر فرد کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔‘‘

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مشکلات کا حل کسی ایک شخص یا معاشرے کے کسی ایک گروہ کے پاس نہیں ہے اور اُن کے بقول ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں فوج نے ملک جمہوریت کے تسلسل کی حمایت کی۔

’’ضروری ہے کہ مستقبل میں بھی عسکری قیادت ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب سب اداروں کا آپس میں باہمی اعتماد بھی بڑھے۔ اس عمل کا آغاز ہو چکا ہے اب اس تسلسل کو برقرار رہنا چاہیئے۔‘‘

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ غلطیاں ضرور کیں لیکن کچھ اچھا بھی کیا جن کی بدولت پاکستان اس وقت آزار اور توانا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کے باوجو پاکستانی فوج نے کامیابیاں حاصل کیں۔

’’اعداد و شمار کا ہیر پھیر کرنے والے آپ کو جو بھی بتائیں لیکن حقیقت میں دفاعی اخراجات قومی بجٹ کا 18 فیصد ہیں نہ کہ 80 فیصد۔‘‘

پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئیں اور اُن کے بقول 37 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں ریاست کی عمل داری بحال کی گئی۔

پاکستانی فوج کا یہ ایسے وقت سامنے جب حال ہی میں اُنھوں نے تھا کہ وہ رواں سال 29 نومبر کو اپنی مدت ملازمت کے اختتام پر فوج سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG