رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور اسکول حملے میں ہلاک ہونے والوں کا چہلم، صوبے میں عام تعطیل


16 دسمبر کو اس حملے میں 134 بچوں سمیت کم از کم 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کا ہولناک ترین دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں گزشتہ ماہ آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کا چہلم منگل کو منایا جا رہا ہے۔

16 دسمبر کو اس حملے میں 134 بچوں سمیت کم ازکم 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کا ہولناک ترین دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا۔

خیبرپختوںخواہ میں منگل کو سرکاری طور پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں مرکزی تقریب وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد کی گئی ہے۔

پشاور اسکول حملے کا ایک ماہ مکمل ہونے پر گزشتہ ہفتے نہ صرف پورے ملک بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود پاکستانیوں نے ریلیوں اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا تھا۔

اس حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ تقریباً سب ہی طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔

حکومت نے ایک متفقہ قومی لائحہ عمل ترتیب دے کر اس پر کام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کے علاوہ نفرت انگیز مواد رکھنے اور ایسی تقاریر کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔

فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے جب کہ دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی پھانسیوں پر عملدرآمد بھی گزشتہ ماہ ہی سے شروع کر دیا گیا۔

ان سزاؤں پر عملدرآمد پر تقریباً چھ سال سے پابندی چلی آ رہی تھی لیکن گزشتہ ماہ اس قدغن کے ہٹائے جانے کے بعد اب تک 20 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

سیاسی و عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ "بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا" اور ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG