رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور میں بم دھماکے 34 افراد ہلاک


پشاور میں بم دھماکے 34 افراد ہلاک

صوبہ پختون خواہ کے عہدےداروں کا کہناہے کہ ہفتے کی رات پشاور کے ایک معروف علاقے خیبر سپرمارکیٹ میں دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر کم ازکم 34 ہوگئی ہے۔

مقامی حکام کا کہناہے کہ 90 سے زیادہ افراد زخمی ہیں جن میں کئی صحافی اور پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔

عہدے داروں کے مطابق خیبر سپرمارکیٹ میں ہونے والا پہلا بم دھماکہ نسبتاً کم طاقت کا تھا۔ مگر جب پولیس اہل کار ، امدادی کارکن اور عام افراد دھماکے کے مقام پر اکٹھے ہوئے تو چند ہی منٹوں میں دوسرا طاقت ور بم دھماکہ ہوگیا، جس سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب حال ہی میں افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی انٹیلی جینس ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینٹا نے اپنے اسلام آباد کے دورے مکمل کیے ہیں۔

افغان صدر نے اپنے دورے میں پاکستان پروزر دیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں افغان سرحد کے ساتھ واقع دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے، جب کہ پینٹانے پاکستان کےساتھ مستقل میں انٹیلی جینس رابطوں کو مضبوط بنانے کے حوالے سے گفتگو کی ۔

میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیاہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں موٹر سائیکل استعمال کی گئی تھی۔ دھماکے کی جگہ سے حملہ آور کے جسم کے کچھ حصے ملنے کا دعوی بھی کیا گیا ہے۔

پولیس عہدے داروں کا کہناہے کہ حملے کا ہدف عام شہری تھے۔

کسی نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

XS
SM
MD
LG