رسائی کے لنکس

پشاور:فائرنگ سے حساس ادارے کا افسر اور دو پولیس اہلکار ہلاک


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پشاور اور خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں پچھلے دو ماہ سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور حکام کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں تشدد کے مختلف واقعات میں حساس ادارے کے ایک افسر اور دو پولیس اہلکاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ پشاور کے نواحی علاقے داؤا زئی پولیس تھانے کے سربراہ کی گاڑی پر جمعرات کی شب پہلے سے گھات لگائے حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس واقعے میں پولیس افسر امیر سلطان محا فظ سمیت ہلاک جب کہ ڈرائیور شدید زخمی ہوا۔

اس حملے سے چند گھنٹے قبل پشاور شہر کے وسطی اور گنجان آباد علاقے سرکئی گیٹ میں ایک حساس ادارے کے انسپکٹر کو نا معلوم افراد نے ان کے گھر کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

پشاور اور خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں پچھلے دو مہینوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور حکام کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ یا ہے۔

صوبائی وزیراطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان واقعات کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ان کے تدارک کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

’’ہماری فوج اور پولیس دہشت گردوں کے خلاف پوری طرح سرگرم ہے تو ظاہر ہے کہ ان کو ہی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں، ہم اس پر بہت جلد قابو پا لیں گے کیوں کہ اس کے لیے پوری تیاری بھی ہوئی ہے جتنی بھی ضرورت ہے پولیس کو صوبائی حکومت ان کو فراہم کرے گی اور اس کو مزید بڑھایا جائے گا اور جو ہمارا انٹیلی جنس نظام ہے اس کو موثر بنانے کی کو شش کر رہے ہیں۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران خیبر پختونخواہ اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے 38 بم دھماکوں میں مجموعی طور پر 85 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جب کہ ہدف بنا کر ایک درجن سے زائد پولیس اہکاروں اور افسروں کو قتل کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG