رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر


پٹرول کی نئی قیمت چار روپے 13 پیسے کے اضافے کے بعد 113 روپے 25 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چار روپے 69 پیسے اضافے سے نئی قیمت 116 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

رواں سال 11 مئی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت اب تک تین مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہے اور یکم اکتوبر سے اضافے کے اعلان کے بعد یہ قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

حکومت ان قیمتوں میں اضافے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے منسوب کرتی ہے اور اس کے عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں ملک کی معاشی صورتحال میں دیرپا استحکام کے لیے اسے مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔

تیل کے علاوہ رواں ماہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

عوام کی اکثریت نے تیل و بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ان کے بقول بھاری مینڈیٹ والی حکومت نے ان کی پہلی سے مشکل زندگی کو مزید دو بھر کر دیا ہے۔

ایک نجی کمپنی میں ملازم محمد فیاض کہتے ہیں کہ ’’جسے ووٹ دیا اس پر اب پچھتا رہے ہیں یہ تو چوری ڈکیتی کو دعوت دینے والی بات ہے، پٹرول، بجلی گیس سب مہنگا ہوتا جا رہا ہے غریب بندہ کیا کرے جو امید تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔‘‘

عبدالکریم ایک طالب علم ہیں لیکن ساتھ ساتھ ایک ادارے میں جز وقتی ملازمت بھی کرتے ہیں۔’’ جو بندہ دس پندرہ ہزار روپے مہینے کے کماتا ہے وہ کیسے اپنے خرچے پورے کرے گا، میرے لیے تو اپنی موٹر سائیکل کو باہر نکالنا مشکل ہوگیا ہے، ہردفعہ امید لگاتے ہیں کہ کوئی اچھی خبر ملے گی لیکن ناامیدی حد تک بڑھ چکی ہے۔‘‘

دارالحکومت کے ایک اور شہری ناصر شیرازی کچھ پرامید نظر آئے۔ ’’بہت مضطرب کر دینے والی بات ہے کیا کہہ سکتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے لیکن اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔‘‘

پٹرول کی نئی قیمت چار روپے 13 پیسے کے اضافے کے بعد 113 روپے 25 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چار روپے 69 پیسے اضافے سے نئی قیمت 116 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

لائٹ ڈیزل دو روپے 81 پیسے کےاضافے کے بعد 101 روپے 24 پیسے، مٹی کا تیل دو روپے 14 پیسے اضافے کے بعد 108 روپے 13 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے۔ ہائی اوکٹین پٹرول میں پانچ روپے 57 پیسے کا اضافہ کیا گیا جو اب 143 روپے 90 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی متحدہ قومی موومنٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروائی ہے۔

مبصرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے حکومت کو قرض فراہم کرنے کے لیے لگائی گئی شرائط بھی ہیں جن کا مقصد مالیاتی خسارے کو کم کرنا ہے۔

سابق وزیرخزانہ سلمان شاہ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں۔ ’’ آئی ایم ایف نے جو پروگرام دیا ہے اس میں آپ نے مالیاتی خسارہ جو پچھلے سال آٹھ فیصد سے بھی اوپر چلا گیا تھا اسے کم کرے چھ فیصد سے بھی نیچے لانا ہے، آپ زراعانت نہیں دے سکتے، آپ ٹیکسز کو کم نہین کرسکتے کیونکہ یہ آپ کے ریونیو کا حصہ ہے تو آخر میں یہ ہی ہوگا کہ تیل، پٹرول بجلی کی قیمتیں اوپر ہی جائں گی۔‘‘

مبصرین کا اصرار ہے کہ توانائی کے حصول کے لیے مقامی وسائل پر انحصار کیے بغیر اس بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچنا تقریباً نا ممکن ہے۔
XS
SM
MD
LG