رسائی کے لنکس

logo-print

پیٹرول بحران، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی: وزیراعظم


وفاقی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بحال ہو چکی ہے اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ کسی خوف کی وجہ اضافی خریداری نا کریں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا جو بھی ذمہ دار ہو گا اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پیر کو اسلام آباد میں وزیرا عظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کی وجوہات جاننے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر غور کیا گیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے عوام کو درپیش مشکلات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پیر کو ملک بھر میں 15 ہزار 600 ٹن پٹرول فراہم کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ملک بھر میں روزانہ پٹرول کی کھپت 12 ہزار ٹن ہے۔

وزیر اعظم کو بتایا کہ آئندہ ماہ سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی اضافی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا کہ توقع ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قلت اسی ہفتے کم ہو جائے گی۔

’’پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بحال ہو چکی ہے، عوام سے اپیل ہے کہ وہ کسی خوف کی وجہ سے اضافی خریداری نا کریں۔‘‘

اُدھر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں اُن اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا کہ ملک میں پٹرول کی قلت کی ذمہ داری وزارت خزانہ پر عائد ہوتی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کی طرف سے اس سلسلے میں کسی طرح کے مالی وسائل نہیں روکے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی خرید اور فروخت سے وزارت خزانہ کا کوئی تعلق نہیں۔

’’حکومت کے حصے کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ بد انتظامی ہوئی ہے۔۔۔ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں کہ یہ نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ وزیر اعظم پہلے ہی سے اس بارے میں تحقیقات کے لیے کہہ چکے ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے بعد وزیر اعظم نے فوری طور پر چار متعلق افسران کو معطل کرتے ہوئے اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس بارے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسلام آباد اور صوبہ پنجاب پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوئے جب کہ دیگر صوبوں میں رہنے والے بھی اس صورت حال سے متاثر ہوئے۔

کئی شہروں میں پٹرول اور ڈیزل دستیاب نہیں اور جن شہروں میں پٹرولیم مصنوعات مل رہی ہیں وہاں بھی پیر کو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔​

XS
SM
MD
LG