رسائی کے لنکس

logo-print

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام 'ناخوش'


ٹرانسپورٹ کے کرائیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے بہت ہی معمولی کمی دیکھی گئی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں قابل ذکر حد تک کمی کے بعد پاکستان میں حکومت نے دو ماہ کے دوران دو مرتبہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 18 روپے سے زائد کمی کرنے کے علاوہ آئندہ ماہ مزید کمی کا عندیہ دیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی ہوتی ہے وہیں سامان کی نقل و حرکت کے اخراجات اور پیداواری لاگت میں بھی کمی کی توقع ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود اس کے ثمرات غریب عوام تک نہ پہنچنے کی شکایات منظر عام پر آ رہی ہیں۔

ٹرانسپورٹ کے کرائیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے بہت ہی معمولی کمی دیکھی گئی۔

وزیراعظم نواز شریف بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ اس کمی کا فائدہ عام آدمی کو پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں لیکن تاحال اس پر واضح عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ کمی کو مستقل نہیں سمجھنا چاہیے اگر پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں اس کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے تو اس کے پیچھے وہ خدشات ہیں کہ آنے والے مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خاصی حد تک بڑھ نہ جائیں۔

سینیئر تجزیہ کار عابد سلہری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔

’’اس وقت پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ ان لوگوں کو پہنچتا ہے جن کی اپنی ٹرانسپورٹ ہے لیکن 50 فیصد لوگ ہیں جن کا انحصار پبلک ٹرانسپورٹ پر ہے ان کو فائدہ اسی صورت ہو گا اگر ضلعی عہدیدار اور مقامی انتظامیہ کرائیوں اور نقل و حرکت کے اخرجات میں کمی کروا سکیں‘‘

صوبائی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن اس میں شاید کچھ مزید وقت لگ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG