رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: پرواز میں تاخیر پر مسافروں کا احتجاج


سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کو مبینہ طور پر اس تاخیر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مسافروں نے احتجاج کیا۔

پاکستان میں پروازوں کی روانگی و آمد میں تاخیر کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن پیر کی شام کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں تاخیر کا واقعہ منگل کو نہ صرف مقامی ذرائع ابلاغ بلکہ سوشل میڈیا پر بھی چھایا رہا۔

اس کی وجہ پرواز میں تاخیر کی مبینہ وجہ بننے والی دو سیاسی شخصیات کی مسافروں کے احتجاج کی بنا پر اس جہاز سے سفر نہ کرنا تھی۔

صورتحال کچھ اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ کراچی سے قومی فضائی سروس 'پی آئی اے' کی پرواز "پی کے 370" نے پیر کی شام سات بجے اسلام آباد کے لیے اڑان بھرنا تھی۔ لیکن اس کی روانگی میں تقریباً دو گھنٹے سے زائد کی تاخیر ہوئی۔

جہاز میں بیٹھے مسافروں نے عملے سے اس تاخیر پر استفسار کیا لیکن وہ انھیں کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

بعد ازاں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار جہاز پر سوار ہوئے تو مسافروں نے انھیں خوب آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ ان کی وجہ سے پرواز کی روانگی میں مبینہ طور پر تاخیر کی گئی۔

ان کی طرف سے اس بات کی تردید اور اپنی صفائی پیش کرنے کے باوجود مسافروں نے احتجاج جاری رکھا اور قانون ساز اپنا سامان لے کر جہاز سے اتر گئے۔

ابھی یہ سارا سلسلہ جاری تھا کہ سابق وزیرداخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمن ملک بھی جہاز پر سوار ہونے کے لیے آئے وہاں پہنچے لیکن مسافروں کی طرف سے برہمی اور نعرے بازی کی وجہ سے وہ وہیں سے واپس ہو لیے۔

مسافروں میں سے کسی نے اس سارے واقعے کی اپنے فون سے وڈیو بنائی جو سارا دن انٹرنیٹ اور مقامی ٹی وی چینلز پر نشر کی جاتی رہی۔

رحمن ملک نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا یہ پرواز ان کی وجہ سے نہیں بلکہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی تھی۔ ایک دوسرے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ "میں اب پی کے 300 پر روانہ ہو رہا ہوں اور یہ بھی 50 منٹ لیٹ ہے، کیا یہ بھی میری وجہ سے ہے۔؟ یقیناً نہیں۔"

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق پی کے 370 فنی خرابی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی اور اس کے بارے میں مسافروں کو پیشگی اطلاع بھی دے دی گئی تھی۔ انھوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ اہم سیاسی شخصیت کے لیے پرواز کی روانگی میں تاخیر کی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ پی آئی اے نے اپنے دو ملازمین کو اس تاخیر پر معطل بھی کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG