رسائی کے لنکس

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بظاہر ایک بار پھر اپنی جماعت کے قائد نواز شریف سے متعلق عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں نا کہ عدالتوں میں۔

ہفتہ کو ڈیرہ غازی خان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے ملک کے لیے کام کرنے والوں کو ان کے بقول عہدوں سے ہٹانا ایک روایت بن گئی ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

"یہ بڑی عجیب روایت بن گئی ہے کہ جو آدمی ملک کے مسائل حل کرے جو ملک کے لیے کام کرے اس کو عدالتوں میں گھسیٹیں عہدوں سے ہٹائیں عوام سے دور کرنے کی کوشش کریں یہ روایت پاکستان میں سیاست کو عزت نہیں دے گی، پاکستان کے مسائل حل نہیں کرے گی، سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں عدالتوں میں نہیں، اس روایت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔"

رواں ہفتے کے اوائل میں وزیراعظم کی درخواست پر ان کی چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے ملاقات کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نواز شریف اور حکمران جماعت کی طرف سے عدالتی فیصلوں پر تنقید سے حکومت اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ شاید کم ہو سکے گا۔ لیکن اس کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے تنقید جاری رہی ہے جب کہ موجودہ وزیراعظم بھی اسی موقف کو دہراتے دکھائی دیتے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں لیکن سیاست کے فیصلے عوام کو ہی کرنے دینے چاہیئں کیونکہ ان کے بقول عوام کا فیصلہ مقدم ہوتا ہے۔

"سیاست کے فیصلے عوام پر چھوڑ دیں سیاست کے فیصلے ووٹر کو کرنے دیں۔۔۔عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا عدالتوں کے فیصلوں پر اپیل بھی ہوتی ہے بہت سے فیصلوں کو تاریخ قبول نہیں کرتی بہت سے فیصلے متنازع بن جاتے ہیں لیکن عوام کا فیصلہ سر آنکھوں پر ہوتا ہے۔"

نواز شریف بھی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے منتخب وزیراعظم کو ہٹایا جانا قابل قبول نہیں اور انھوں نے ووٹ کو عزت دینے کی تحریک بھی شروع کر رکھی ہے جس کے حق میں وہ اپنے ہر جلسے اور گفتگو میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔

غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر تنقید ہر شہری کا حق ہے لیکن یہ تنقید حدود و قیود میں رہ کر ہونی چاہیے بصورت دیگر عدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کو گزند پہنچ سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG