رسائی کے لنکس

کیا اجازت لے کر قانون سازی کرنا ہو گی؟ وزیرِ اعظم کا سوال


قائد حزب ِاختلاف خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ایوان کو قانون سازی کا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر بحث بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی عدالتی فیصلے کے ذریعے نااہلی کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی عدلیہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی کا معاملہ اب پارلیمان تک پہنچ گیا ہے۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس حوالے سے ایک پالیسی بیان میں کہا کہ جو اراکین اس ایوان میں بیٹھے ہیں وہ پاکستانی عوام کے نمائندے ہیں۔

’’عدالتوں میں کبھی منتخب نمائندوں کو چور کہا جاتا ہے۔ کبھی مافیا کہا جاتا ہے۔ کبھی ڈاکو کہا جاتا ہے۔ کبھی دھمکی دی جاتی ہے کہ جو قانون پاس کیا ہے اس کو ہم ختم کر دیں گے اور اس کے اثرات آپ پر کیا ہوں گے۔‘‘

وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں عدلیہ کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا ’’ایوان کو قانون سازی کا حق حاصل نہیں؟ کیا ہمیں پہلے اجازت لے کر قانون سازی کرنی ہے؟‘‘

اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی حکومت اور جماعت کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ آئین میں تمام اداروں کی حدود کا تعین ہے اور اُنھی میں رہ کر سب اداروں کو کام کرنا ہو گا بصورت دیگر نقصان ملک کا ہو گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایوان کو اس معاملے پر بحث کرنی چاہیے کہ "سرکاری افسران کو عدالتوں میں طلب کیا جاتا ہے، بے عزت کیا جاتا ہے، پالیسوں کی نفی کی جاتی ہے، لوگوں کو نکالا جاتا ہے، یہ باتیں کب تک چلیں گی؟"

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اُمورِ حکومت چلانے سے متعلق پوچھ گچھ اور نگرانی ہونی چاہیے لیکن اُس کے لیے قانون موجود ہیں۔

قائد حزب ِاختلاف خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ایوان کو قانون سازی کا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر بحث بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ’’ہم نے خود اس پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ ہم نے خود اس پارلیمنٹ کا تقدس پامال کیا ہے۔ کسی اور نے نہیں کیا۔‘‘

اُدھر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے منگل کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو ’’میں عدلیہ کو بچانے کے لیے لوگوں کو سڑکوں پر نکالو گا۔‘‘

واضح رہے کہ اپنی نااہلی کے بعد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی مسلسل عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

عدالتِ عظمٰی کی طرف سے پارلیمان میں دیے جانے والے ان تازہ بیانات پر تو کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا لیکن اس سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار کہہ چکے ہیں کہ عدالت کے باہر دیے جانے والے بیانات پر جس طرح وہ صبر کیے ہوئے ہیں اس پر عدالت کو داد دینی چاہیے۔

عدلیہ پر مبینہ تنقید پر دو وفاقی وزرائے دانیال عزیز اور طلال چوہدری کو توہینِ عدالت پر اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے اور اُن کے خلاف کیسز سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG