رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ الیکشن: ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس


سینیٹ کے انتخابات میں "ہارس ٹریڈنگ" یعنی ووٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق اطلاعات پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات آئندہ ہفتے ہونے جا رہے ہیں لیکن اس کے لیے ووٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق اطلاعات نے ایک بار پھر ملک کی سایسی جماعتوں کو ایک میز پر لا بٹھایا ہے۔

جمعہ کو وزیراعظم نواز شریف نے سینیٹ کے انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تاہم پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس بلا رکھا تھا جس میں مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا لیکن اجلاس میں سوائے یقین دہانیوں کے کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔

سینیٹ کے انتخابات میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان خفیہ رائے شماری کے ذریعے امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں لیکن حکومت نے یہ تجویز دے رکھی تھی کہ آئین میں ترمیم کر کے خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہنیڈز یا پھر ووٹ پر رائے دہندہ کے نام درج کرکے کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اس پر کوئی قابل ذکر اتفاق رائے نہیں پایا گیا اور صرف حکومت مخالف پاکستان تحریک انصاف اور چند دیگر جماعتوں نے ایسے اقدام کے لیے حامی بھری۔

وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ یعنی ووٹوں کی خریدوفروخت ختم کر کے ایوان بالا کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

"ووٹ نہیں ضمیر خریدنے والی بات ہورہی ہے اور میں اس کو مکروہ کاروبار سمجھتا ہوں کہ پیسے دے کر ووٹ خریدا جائے اور پھر پیسے دے کر ووٹ خرید کر ایوان بالا میں بیٹھا جائے کتنے افسوس کی بات ہے۔۔۔یہ ہم سب کے لیے بدنامی کا باعث ہے سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کاروبار کو روکیں اس پیسے کے کھیل کو روکیں اور اپنے ایوان بالا کو بچا ئیں۔"

تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ آئینی ترمیم کے حق میں ہیں اور انتخابات میں شفافیت کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں میں وہ حکومت کی حمایت کریں گے۔

لیکن حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جلد بازی میں کسی کی جانے والی کسی بھی ترمیم کے حق میں نہیں۔

سینیٹ میں کل ارکان کی تعداد 104 ہے جس میں سے نصف 11 مارچ کو اپنی رکنیت کی معیاد پوری ہونے پر سبکدوش ہو رہے ہیں اور ان نشستوں پر انتخاب پانچ مارچ کو ہونے جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG