رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور حملے کی یادوں کو ’معدوم‘ نہیں ہونے دیں گے: وزیراعظم


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس میں تاریخی یکجہتی سامنے آئی اور اس لیے اب مل کر اس قومی فریضے کو ادا کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پشاور اسکول پر ہونے والے حملے کی یاد کو اُس وقت تک معدوم نہیں ہونے دیا جائے گا جب تک کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔

جمعہ کو وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے قومی لائحہ عمل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

رواں ہفتے ملک کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی قومی لائحہ عمل کی منظوری دی گئی تھی۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی جو انسداد دہشتگردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم خود اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ آج کا پاکستان بدل چکا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس میں تاریخی یکجہتی سامنے آئی اور اس لیے اب مل کر اس قومی فریضے کو ادا کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیئے۔

اُدھر صدر ممنون حسین نے بھی جمعہ کو ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد چاہے ملک کے کسی بھی حصے میں ہوں اُن کا خاتمہ کیا جائے گا۔

’’میں دہشت گردوں کو انتباہ کرتا ہوں کہ اُن کے پاس مہلت ختم ہو چکی ہے، لہذا وہ ہتھیار پھینک کر خود کو ریاست کے حوالے کر دیں۔ دوسری صورت میں اُنھیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔‘‘

وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو بھی ہدایت کی کہ وہ ضروری آئینی ترامیم کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں۔ 24 دسمبر کو اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔

ان عدالتوں کی مدت دو سال ہو گی اور انھیں قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔

پشاور میں ایک اسکول پر ملک کی تاریخ کے ایک بدترین دہشت گرد حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ’ضرب عضب‘ کے نام سے ایک آپریشن ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری ہے اور اب ایک ایسی ہی کارروائی شہروں اور دیہاتوں میں چھپے شدت پسندوں کے خلاف بھی کی جا رہی ہے۔

دہشت گردوں کے مالی وسائل کے حصول کے ذرائع کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کو واضح ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

XS
SM
MD
LG