رسائی کے لنکس

logo-print

اداروں کے کردار پر نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے: وزیراعظم


شاہد خاقان عباسی

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کا دور حکومت منتخب قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے ساتھ ہی 31 مئی کو ختم ہو جائے گا لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مسلسل قومی اُمور پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اُنھوں نے سویلین ملٹری تعلقات اور عدلیہ کے کردار سے متعلق قومی سطح پر بحث کی تجویز بھی دی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پیر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ملک میں سویلین اور فوجی قیادت کے تعلقات اور عدلیہ کے کردار پر ڈائیلاگ ہونا چاہیئے۔

’’کئی دفعہ ایوان میں بھی کہا ہے کہ جو موجودہ حالات ہیں جس میں عدلیہ انتظامیہ کے کام میں مداخلت کر رہی ہے، نیب نے حکومت کو مفلوج کر دیا ہے۔ آج حکومتیں اس طرح نہیں چل سکتیں۔ اس لیے جب اگلی حکومت آئے تو یہ ضروری ہے کہ ایک نیشنل ڈائیلاگ ہو۔‘‘

پاکستان میں ریاست کے اداروں خاص طور پر ’سول ملٹری‘ تعلقات پر عدلیہ کے کردار پر مشاورت کے لیے اس سے قبل بھی تجاویز سامنے آ چکی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’سول ملٹری تعلقات آج بہت بہتر ہیں لیکن ارتکائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔۔۔۔ پوری دنیا میں یہ ہوتا ہے اسی طرح عدلیہ کا کیا کردار ہو گا اس کے کیا اثرات ہوں گے۔۔۔۔ اگر جوڈیشل فیصلے ملک کو ہزاروں ارب روپے کا مقروض کر دیں یا تو اس کا کون جواب دہ ہو گا، اگر نیب کی وجہ سے حکومت مفلوج ہو جاتی ہے کوئی افسر فیصلہ کرنے پر تیار نہیں ہے اس کی جواب دہی کون کرے گا یہ وہ چیزیں ہیں جو ایک جمہوری معاشرے میں بحث کا باعث ہونا چاہیئں اور ہم بھی یہی کہتے ہیں۔‘‘

اُدھر منگل کو پاکستان کی اعلیٰ سویلین اور عسکری قیادت پر مشتمل نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کے علاوہ وزیر خارجہ اور داخلہ بھی شریک تھے۔

قومی سلامتی کمیٹی نے فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام اور گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے نفاذ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے پاکستان کو سیاحوں اور کاروباری برداری کے لیے دوست ملک بنانے سے متعلق نئی ویزا پالیسی کے بنیادی نکات سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی نے موجودہ عالمی اور علاقائی صورت حال پر بھی غور کیا اور کہا کہ پاکستان امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی اور سیاسی کوششیں جاری رکھے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG