رسائی کے لنکس

logo-print

وزیراعظم کے استعفے پر اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق نہ ہو سکا


اعتزاز احسن نے متفقہ اعلامیے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تجویز کیا گیا ہے کہ احتساب کا عمل جلد شروع ہو اور اس عمل کا آغاز وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے خلاف تفتیش سے ہو۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما پیپرز کے انکشافات کی تحقیقات کے لیے ایک متفقہ ضابطہ کار تجویز کیا ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے کے معاملے پر متفق نہیں ہو سکی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن کے اسلام آباد میں واقع گھر پر حزب مخالف کی جماعتوں کے دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد منگل کو ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اعتزاز احسن نے متفقہ اعلامیے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تجویز کیا گیا ہے کہ احتساب کا عمل جلد شروع ہو اور اس عمل کا آغاز وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے خلاف تفتیش سے ہو۔

’’چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا جائے جو تین ماہ میں وزیراعظم کے اثاثوں کے بارے میں فیصلہ کرے اور باقی لوگوں کے فیصلے ایک سال میں کرے گا۔ سب سے پہلی انکوائری وزیراعظم کی ہو گی۔‘‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے کے معاملے پر تمام جماعتوں میں اتفاق نہیں ہو سکا تاہم اُن کے بقول بیشتر جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی اس موقف پر قائم ہیں کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔

’’ہمیں یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس (وزیراعظم کے استعفی کے) معاملے پر ہمارا اتفاق نہیں ہے۔ لیکن اس سے ہمارا اتحاد کمزور نہیں ہوتا۔‘‘

پاناما پیپرز میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے اہل خانہ کی آف شور کمپنیوں کے انکشاف کے بعد سے حکومت اور حزب مخالف میں لفظوں کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور منگل کو وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے سب سے بڑے ناقد حزب مخالف کے رہنما عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان پاناما لیکس کے معاملے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ دہراتے آ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے حکومت کی مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتاجی مہم بھی شروع کر رکھی ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلسے اور ریلیاں منعقد کر چکی ہے۔

تاہم منگل کو بنوں میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر ہونے والے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انھیں عوام نے منتخب کیا اور وہ عمران خان کے کہنے پر اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔

"عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، عوام نے ہمیں فتح سے ہمکنار کیا ہے ہم آپ کے کہنے پر گھر چلے جائیں۔ یہ منہ اور مسور کی دال، کیا سمجھتے ہیں آپ اپنے آپ کو، آپ کو پتا لگ جائے گا جیسے جیسے وقت گزرے گا آپ کو پتا لگ جائے گا۔"

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے دو سال تک انتخابات میں دھاندلی کا شور مچاتے اور دھرنے دیتے رہے لیکن سپریم کورٹ نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔

"آج پھر وہ 22 سال پرانی باتیں کر رہے ہیں، نئے نئے الزامات لگا رہے ہیں جن کا وجود ہی نہیں۔ ہم نے کہا کہ آؤ سپریم کورٹ چلتے ہیں۔۔۔ہم نے فیصلہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا ہے آپ جانتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ہمارے خلاف ایک پائی کی کرپشن بھی اگر ثابت ہو جائے تو ایک منٹ میں نواز شریف اپنے گھر چلا جائے گا۔"

صوبہ خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور نواز شریف نے بنوں جلسے میں صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئے پاکستان کی بات کرنے والے ان کے بقول صوبے کی حالت تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس موقع پر حکومت میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں اور ان کے بقول "اگر احتساب ہو گا تو سب کا ہوگا اور وزیراعظم گھر جائیں گے یا جیل جائیں گے یہ مسئلہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آگر اپ (عمران خان ) کی باری آئی تو نہ آپ کو گھر ملے گا نہ آپ کو پاکستان ملے گا۔"

XS
SM
MD
LG