رسائی کے لنکس

logo-print

اعلیٰ عسکری عہدوں پر تقرری کا اعلان بیک وقت کرنے کا فیصلہ


پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اُن کے ہر فیصلے کی بنیاد ’’ملک کا وسیع تر مفاد‘‘ ہو گا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ مسلح افواج کے دو اعلیٰ افسران کی مستقبل قریب میں سبک دوشی سے متعلق صورت حال کے تناظر میں اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اُن کے ہر فیصلے کی بنیاد ’’ملک کا وسیع تر مفاد‘‘ ہو گا۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل خالد شمیم وائیں کی مدت ملازمت 8 اکتوبر بروز منگل مکمل ہو رہی ہے جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی 29 نومبر کو ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری اور جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ خاصے اہم معاملات ہیں جن پر جامع انداز میں غور و خوض کی ضرورت ہے۔

’’لہذا وزیرِ اعظم نے دونوں عہدوں پر تقرری کا بیک وقت اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

سرکاری بیان میں اس بارے میں کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اُدھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں نے جوائٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں پیر کو ایک الوادعی تقریب میں بھی شرکت کی۔

درین اثنا جنرل کیانی کی طرف سے اپنی ریٹائرمنٹ سے متعلق حالیہ اعلان کو مبصرین اور سیاسی حلقے ایک مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اس سے وہ قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ جنرل کیانی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہشمند ہیں یا موجودہ حالات کے تناظر میں اُن کی مدت ملازمت میں ایک مرتبہ پھر توسیع زیرِ غور ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اتوار کی شام جنرل کیانی کا ایک تحریری بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ادارے اور روایات کسی فرد سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں اور وہ اُن کا دور 29 نومبر کو ختم ہو رہا ہے۔

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اُن کو چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اُن کے بقول اب دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو آگے بڑھائیں۔

دفاعی اُمور کے ماہر ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ شہزاد چودھری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع یا اُن کے مستقبل کے بارے میں غیر ضروری بحث جاری تھی۔

’’اُن کے اعلان نے اس بحث کو ختم کر دیا ... مسلح افواج میں افسران کی ترقی سے متعلق کسی بحث کو بڑے منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے اور اس موضوع پر فوج میں کبھی بات نہیں کی جاتی۔‘‘

شہزاد چودھری نے جنرل کیانی کے دور میں فوج کی کارکردی گا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس عرصہ میں حکومتی معاملات میں فوج کا اثر و رسوخ کم سے کم تر ہوا ... قبائلی علاقوں میں شدت پسندی پر خاصی حد تک قابو پایا گیا۔ اب صرف شمالی وزیرستان کی بات ہوتی ہے جب کہ باقی علاقے کافی حد تک شدت پسندوں سے پاک و صاف ہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG