رسائی کے لنکس

دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس آپریشن، مظاہرین کی مزاحمت


اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر گزشتہ بیس روز سے دھرنے دینے والے مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز نے ہفتہ کی صبح کارروائی شروع کی لیکن انھیں مظاہرین کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

تحریک لیبک کا مرکزی اسٹیج بدستور فیض آباد پل پر قائم ہے اور وہاں پر مظاہرین اور ان کی قیادت موجود ہے جہاں سیکورٹی اہلکاروں کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

اسلام آباد میں فیض آباد انٹر چینج پر 7 نومبر سے دھرنے پر بیٹھے مذہبی جماعتوں کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے آپریشن کا آغاز صبح ساڑھے سات بجے شروع کیا گیا۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے دھرنے کے مقام پر مظاہرین کی خیمہ بستی بھی خالی کرالی گئی جب کہ کئی مظاہرین نے خیمے خالی کرنے سے قبل کچھ کو آگ لگا دی۔

گزشتہ رات اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے پیش نظر دھرنا قائدین کو ہفتہ کی صبح سات بجے تک دھرنا ختم کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ ہفتہ کی صبح چھ بجے بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کنینن، ایمبولنسز کو فیض آباد پہنچایا گیا۔

8ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں نے دھرنے کے شرکاء کو چاروں اطراف سے گھیر کر آپریشن کا آغاز کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

سیکورٹی فورسز مظاہرین کی بڑی تعداد کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوئی لیکن مظاہرین قرب و جوار کے علاقوں میں پھیل گئے جہاں دن بھر ان کی پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ جاری رہی۔

دھرنے کے شرکاء کے پاس شیلنگ سے بچنے کے لیے ماسک اور پتھراؤ کے لیے غلیلیں موجود ہیں جس سے وہ مسلسل سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جاتا رہا۔

ان جھڑپوں میں 180 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں کی بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔

شدید شیلنگ کی وجہ سے اس علاقے اور گردونواح میں دھویں کے شدید بادل چھا گئے اور ہر طرف پتھر بکھرے پڑے ہیں۔

پولیس نےفیض آباد میں تمام مارکیٹیں،دکانیں ہوٹل بند کرادیئے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے جب کہ حکومت بھی اب تک اس دھرنے کے خاتمے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دی۔

حکومت اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں لیکن تمام ہی بے نتیجہ ثابت ہوئے۔

دھرنے کے باعث کئی اہم شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو متبادل راستوں پر ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ پندرہ روز سے میٹرو بس سروس بھی معطل ہے جب کہ فیض آباد اور اطراف کے دکاندار بھی شدید پریشان ہیں۔

اسکول و کالج جانے والے طلبا و طالبات کو طویل سفر طے کر کے اپنی منزل پر پہنچنا پڑتا ہے، اسی طرح دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی شدید پریشان ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حتیٰ الامکان اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی لیکن عدالتی حکم پر قانون کی عملداری کے لیے انتظامیہ کو کارروائی کرنا پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی کوشش یہی ہے کہ کم سے کم نقصان ہو اور راولپنڈی، اسلام آباد کے لاکھوں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق کو بحال کیا جا سکے۔

ادھر مظاہرین نے سابق وفاقی وزیرداخلہ اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینیئر راہنما چودھری نثار علی خان کی فیض آباد میں واقع رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا لیکن پولیس نے مظاہرین کو رہائش گاہ میں داخل ہونے سے روک لیا اور صورتحال پر مزید خراب ہونے سے قبل ہی قابو پا لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG