رسائی کے لنکس

logo-print

ٹریفک پولیس افسر کے قتل کے الزام میں قانون ساز گرفتار


فائل فوٹو

صوبائی دارالحکومت میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو گاڑی تلے کچلنے کے الزام میں پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کو گرفتار کر لیا، جنہیں ہفتہ کو عدالت میں پیش کر کے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چئیر مین مجید خان اچکزئی کو پر الزام ہے کہ انھوں نے منگل کو زرغون روڈ پر فرائض انجام دینے والے ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر حامی عطا محمد کو اپنی گاڑی تلے روند ڈالا تھا جو کہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔

پولیس حکام نے اس واقعے کی ایف آئی آر نا معلوم افراد کے خلاف درج کر لی تھی اور مجید اچکزئی کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا تھا اور بظاہر سیاسی دباﺅ کے باعث اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔

لیکن واقعے کے تیسرے روز جی پی او چوک پر پولیس کی جانب سے لگائے گئے خفیہ کیمروں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک تیز رفتار گاڑی چوک پر کھڑ ے سب انسپکٹر کو ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیتی ہے اسی گاڑی سے مجید اچکزئی کو اُتر تے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

مجید اچکزئی کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت گاڑی ڈرائیور چلارہا تھا اور اس حاد ثے میں اُن کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے چئیر مین طاہر حسین نے مجید اچکزئی کے خلاف کاروائی کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل ملک میں قانون کی بالادستی کےلئے مبثت قدم ہے۔

مجید خان اچکزئی پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکزئی کے چچا زاد بھائی اور اُن کے برادر نسبتی ہیں۔

وہ ضلع قلعہ عبداللہ چمن کی ایک حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی صوبے میں مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت کی ایک اہم اتحادی ہے۔

محمود خان اچکزئی کے بڑے بھائی محمد خان اچکزئی بلوچستان کے گورنر اور چھوٹے بھائی حامد خان بلوچستان کی کابینہ کے صوبائی وزیر ہیں اور یہ بلوچستان کا ایک بااثر سیاسی خاندان تصور کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG