رسائی کے لنکس

logo-print

انسداد پولیو کی مہم درست سمت میں بڑھ رہی ہے


پاکستان کی انسداد پولیو کی قومی مہم کی خیر سگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری

انسداد پولیو کی قومی مہم کی خیر سگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے مقامی رضا کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وزارت داخلہ کی مدد سے ہر ممکن اقدامات کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

پاکستان کی انسداد پولیو کی قومی مہم کی خیر سگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری نے ایوان صدر میں وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سلامتی کے خدشات اور بعض دیگر تحفظات کے باوجود عالمی ادارہ صحت اس بات کا معترف ہے کہ جسمانی معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری کے خلاف پاکستان کی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ انسداد پولیو کی مہم کے بارے میں ملک کے بعض حصوں میں تحفظات اور اس کے خلاف سازشی مفروضے یقیناً پاکستان سے اس وائرس کے خاتمے کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں مگر حکومت ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔

انسداد پولیو کی قومی مہم کی خیر سگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری کی گفتگو
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:46 0:00

مزید برآں پولیو کے خاتمے کی مہم کی خیر سگالی سفیر نے کہا کہ حکومت عالمی ادارہ صحت اور مقامی رضا کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وزارت داخلہ کی مدد سے ہر ممکن اقدامات کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

آصفہ بھٹو نے اعتراف کیا کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں اب بھی بعض حصے ایسے ہیں جہاں سلامتی کے خدشات کے باعث انسداد پولیو کی ٹیمیں نہیں پہنچ پا رہیں۔

’’فاٹا کے علاقوں میں اب فوج کے تعاون سے فوجی اسپتالوں میں پانچ سال سے کم بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ قبائلی علاقوں سے باہر نکلنے اور واپس جانے والے خاندانوں کے پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔‘‘


پولیو مہم میں بچوں کو ویکسین دی جارہی ہے
پولیو مہم میں بچوں کو ویکسین دی جارہی ہے
اُنھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اہداف کا حصول اسی وقت ممکن ہو گا جب وہاں فوجی آپریشن اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

آصفہ بھٹو نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں ہیپٹائیٹس سے بچاؤ کی جعلی مہم نے پولیو اور دیگر ایسی خطرناک بیماریوں کے خلاف پاکستانی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس پایا جاتا ہے تاہم اس سال ملک بھر میں اب تک 27 بچے اس کا شکار ہوئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

رواں برس پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ بچوں کی نشاندہی وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں ہوئی۔
XS
SM
MD
LG