رسائی کے لنکس

انسداد پولیو کے لیے مزید موثر و مربوط کوششوں کی ضرورت


انسداد پولیو مہم کے بارے میں پاکستان میں انتہا پسند مذہبی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے تحت فراہم کرنے والی ویکسین سے در اصل ملک میں آبادی روکنے کی سازش ہے۔

پاکستان میں انسداد پولیو سے متعلق اقدامات اور خطے میں اس بیماری کے خاتمے کے کامیاب تجربات کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد میں روٹری کلب کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اعلٰیٰ سرکاری حکام کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر علاقے کے لیے مربوط و موثر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس پیچیدہ اور مشکل مہم کے لیے کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس سے متعلق افواہوں اور منفی تاثرات کو موثر انداز میں زائل کیا جا سکے۔

انسداد پولیو سے متعلق وزیر اعظم کی خصوصی مشیر شہناز وزیر علی نے تشویش کا اظہار کیا کہ پولیو سے بچاؤ کی مہم اور ویکسین کے بارے میں اب بھی عوام میں غلط سوچ پائی جاتی ہے اور اسے زیر حراست ڈاکٹر شکیل آفریدی سے وابستہ کیا جاتا ہے۔

’’بار ہا مذمت کی کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے ہیلتھ ورکرز کو اوسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے استعمال کیا جس سے مہم متاثر ہوئی مگر اب ہمیں اس چیز کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اپنے بچوں کی صحت ومستقبل اور انہیں معذوری سے بچانے کے لیے اپنے پیر پر کلہاڑی کیوں ماریں۔‘‘

انہوں نے سیاسی رہنماؤوں، علماء و دانشوروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کی مہم کسی حکومت یا جماعت کی نہیں بلکہ اس ملک کے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہے۔

شہناز وزیرعلی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم کے مکمل اخراجات کا تخمینہ تقریبا 11 کروڑ ڈالر ہے جوکہ امدادی ادارے بروقت فراہم کررہے ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں انتظامی اور آپریشنل کمزوریوں کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جاتے۔

روٹری کلب کی انٹرنیشنل پولیو پلس کمیٹی کے بلوچستان میں اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر محمد حنیف خلجی کہتے ہیں کہ مذہبی علماء انسداد پولیو سے متعلق بظاہر غیر سنجیدہ ہیں جوکہ اس وائرس کے خاتمے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہے۔

’’ہم نے علماء کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ ہمارے صوبے میں زیادہ تر وزراء علماء ہیں مگر ان کا کردار صرف اجلاسوں تک محدود ہوتا ہے۔ وہ پولیو سے متعلق پیغام کمیونٹی میں لے جاتے ہی نہیں۔ اگر بھارت کی ریاست بہار کی طرح ان پر زور ڈالا جائے کہ اپنی مسجدوں میں اس حوالے سے تبلیغ کرو تو یہ بھی پولیو وائرس سے پاک ہو جائے گا۔‘‘

انسداد پولیو مہم کے بارے میں پاکستان میں انتہا پسند مذہبی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے تحت فراہم کرنے والی ویکسین سے در اصل ملک میں آبادی روکنے کی سازش ہے۔

خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کہتی ہیں کہ پولیو کی بیماری کے بارے میں عوام میں آگاہی کو بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔

’’اگر مجھے آگاہی ہو کہ ہمسائے کا بچہ میرے بچے کے لیے خطرناک ہے تو میں اسے قطرے پلانے کے لیے قائل کروں گی بلکہ پوری کمیونٹی کو بھی قائل کرنے کی کوشش کروں گی۔ اس آگاہی کی کمی ہے۔‘‘

پاکستان، افغانستان اور نائجیریا دنیا کے وہ تین ممالک ہیں جہاں پولیو کا وائرس اب تک پایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں سرکاری اعداوشمار کے مطابق 58 نئے پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ حال ہی میں شدت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو کی ٹیموں پر حملوں میں اضافہ بھی ہوا ہے اور حکومت کے عہدیداروں کے مطابق خواتین رضاکاروں سمیت 11 اہلکار اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG