رسائی کے لنکس

logo-print

پولیو وائرس کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے: وزیراعظم


وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر پولیو کا یہ پھیلاؤ نہ روکا گیا تو آنے والے سالوں کے دوران پولیو کے کیسز کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

دنیا میں پولیو وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ اس بارے میں شعور اجاگر کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نا کیے گئے تو پولیو وائرس کے کیسز کی تعداد میں 10 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے 227 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ دنیا کے دیگر دو ملک (افغانستان اور نائیجیریا) جہاں تاحال پولیو وائرس پر پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا وہاں ان کیسز کی تعداد بالترتیب 12 اور چھ ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو لکھے گئے ایک خط میں ہدایت کی کہ ہنگامی صورتحال کا تقاضہ ہے کہ صوبائی حکومتیں پولیو کے انسداد کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کریں اور ان علاقوں میں پولیو سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔

انھوں نے پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر بین الاقوامی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ امریکہ کے دورے پر عالمی بینک کے صدر نے بھی یہ مسئلہ اٹھا تھا۔ "اس حوالے سے یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر پولیو کا یہ پھیلاؤ نہ روکا گیا تو آنے والے سالوں کے دوران پولیو کے کیسز کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔"

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو کہا جائے کہ وہ رواں سال دسمبر سے آئندہ سال مئی تک انسداد پولیو کی مہم کو یقینی بنائیں۔ ان کے بقول صورتحال "یقیناً خطرناک ہے اور ہنگامی اقدامات کے قومی منصوبے کے تحت نگرانی اور احتساب کے طریقوں کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔"

گزشتہ سال پاکستان میں پولیو سے متاثرہ صرف 93 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ لیکن رواں سال ان میں تشویشناک اضافے کی ایک بڑی وجہ گزشتہ دو سالوں میں پانچ سال تک کی عمر کے اڑھائی لاکھ بچوں تک سلامتی کے خدشات کے باعث انسداد پولیو ٹیموں کا نہ پہنچنا بتائی جاتی ہے۔

شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں یہ مہم بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور پولیو سے متاثرہ کیسز کی اکثریت بھی ان ہی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخواہ سے رپورٹ ہوئی۔

دوسری طرف والدین کی طرف سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے انکار کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں انسداد پولیو ٹیموں کے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر جان لیوا حملوں سے بارہا معطل ہونے والی مہم بھی پولیو وائرس پر قابو پانے میں ناکامی کی وجوہات ہیں۔

عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں انسداد پولیو کی تین سے پانچ مہمات بھرپور طریقے سے چلا کر انسانی جسم کو اپاہج کردینے والی اس بیماری کے وائرس پر قابل ذکر حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG