رسائی کے لنکس

logo-print

وزیراعظم نے بھی رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کر دیا


حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے اُمیدوار کا انتخاب صوبہ بلوچستان سے کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے ایوان بالا یعنی ’سینیٹ‘ کے چیئرمین کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کے نامزد کردہ اُمیدوار سینیٹر رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پر پیر کی شب حزب مخالف کی جماعتوں کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

منگل کو وزیراعظم نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو ظہرانہ پر مدعو کیا تھا، جس کا مقصد چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے متفقہ نام پر مشاورت تھی۔

سابق صدر آصف علی زرداری تو اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے لیکن اُن کی جماعت کے کئی رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کی نمائندگی کی۔

وزیراعظم نواز شریف نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے اُمیدوار کا فیصلہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں مل کر کریں۔

’’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کل یہ فیصلہ کر لیا جائے گا، لیکن اب جب کہ یہ ہو گیا ۔۔۔۔۔ تو ہم اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں، بڑی خوشی کی بات ہے کہ رضا ربانی صاحب اس کے اُمیدوار ہیں۔‘‘

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے حکومت کی طرف سے رضا ربانی کی حمایت پر کہا کہ یہ پاکستان کی سیاست کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے ظہرانے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بتایا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے ’’فاٹا‘‘ سے سینیٹ کے انتخابات کے لیے طریقہ کار میں تبدیلی کی غرض سے جو صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا تھا وہ واپس لیا جا رہا ہے۔

حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے اُمیدوار کا انتخاب صوبہ بلوچستان سے کیا جائے گا، تاہم اس بارے میں کسی نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

حکومت کی طرف سے حمایت کے اعلان کے بعد سینیٹر رضا ربانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کی کوشش ہو گی ملک میں جمہوری ادارے مضبوط ہوں۔

سینیٹر رضا ربانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ 2012ء میں چھٹی مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں 1973ء کے آئین کو بحال کرنے کے لیے کی گئی اٹھارویں آئینی ترمیم کو تیار کرنے والی کمیٹی کی قیادت بھی رضا ربانی ہی نے کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سینیٹ الیکشن میں 52 میں سے 48 نشستوں پر انتخاب ممکن ہوا تھا اور ’فاٹا‘ کے اراکین نے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد چار نشستوں پر سینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

سینیٹ کے اراکین کی کل تعداد 104 ہے اور اس وقت ایوان میں سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی ہے جس کے اراکین کی تعداد 27 ہے جب کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے 26 سینیٹر ہیں۔

XS
SM
MD
LG