رسائی کے لنکس

نظریں عدالت کے فیصلے پر، سیاسی ہلچل جاری


پاکستان کی عدالت عظمٰی کی طرف سے پاناما لیکس سے متعلق فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد ملک میں ممکنہ عدالتی فیصلے اور اس کے اثرات کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں مختلف ذرائع سے میڈیا پر وزارت عظمٰی کے لیے بعض ممکنہ نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔

لیکن وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت حکمران جماعت کے سینیئر عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) میں کسی بھی ممکنہ وزیراعظم کے نام پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر وزرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے (فائل فوٹو)
وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر وزرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

اگرچہ موجودہ صورت حال کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ سپریم کورٹ سے وزیراعظم کی ممکنہ نا اہلی کی صورت میں اس کا اثر جمہوری نظام پر نہیں پڑے گا اور حکمران جماعت اپنی پارٹی سے کسی اور شخصیت کو اس منصب کے لیے نامزد کر سکتی ہے۔

لیکن تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ نواز شریف محض کسی جماعت کے رکن اسمبلی یا نامزد وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ہیں اور اُن کے بقول اگر کوئی فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آتا ہے تو اس سے سیاسی بحران کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

’’اس سے پہلے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے جو نا اہل قرار دیا گیا تھا تو وہ (گیلانی صاحب) پیپلز پارٹی کے سربراہ نہیں تھے۔۔۔۔ اگر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو یہ سمجھنا کہ معاملات معمول کے مطابق ہموار ہوں گے، یہ درست نہیں ہو گا۔‘‘

حکمران جماعت میں اختلافات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بعض معاملات پر وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعظم کے درمیان اختلاف ہے۔

بظاہر اسی تناظر میں چوہدری نثار نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس بھی کرنی تھی لیکن عین وقت یہ ملتوی کر دی گئی۔

دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عظمیٰ میں ایک جواب داخل کروایا ہے جس میں متحدہ عرب امارات میں نواز شریف کے اقامے اور ان کی ملازمت کی وضاحت بھی پیش کی گئی۔

وضاحتی جواب میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ دبئی قائم کمپنی ’ایف زیڈ ای‘ کی ملازمت سے متعلق نواز شریف نے حقائق نہیں چھپائے بلکہ اس کی تفصیلات سے الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

عمران خان (فائل فوٹو)
عمران خان (فائل فوٹو)

اُدھر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اُن پر ٹیکس چوری یا منی لانڈرنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

’’میں نے پیسہ باہر کمایا اور وہ پیسے کو پاکستان لایا اور میں نے بنی گالا میں زمین خریدی ۔۔۔ تو نا منی لانڈرنگ ہوئی کیونکہ پاکستان سے باہر تو پیسہ نہیں گیا بلکہ ملک میں پیسہ لایا گیا۔۔۔۔ ٹیکس چوری بھی نہیں ہوئی کیونکہ ٹیکس تو میں باہر دیتا تھا۔۔۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک عہدیدار کی طرف سے اُن کے خلاف سپریم کورٹ میں جو مقدمہ کیا گیا ہے اُس کے جواب میں اُنھوں نے تمام تفصیلات عدالت میں جمع کروا دی ہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان سے بنی گالہ کی اراضی خریدنے سے متعلق منی ٹریل اور بیرون ملک سے اپنی جماعت کے لیے حاصل ہونے والی فنڈنگ کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما حنیف عباسی نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے خلاف غیر قانونی اثاثوں اور ٹیکس چوری کے الزامات لگاتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG