رسائی کے لنکس

logo-print

عوام ملکی ترقی میں رکاوٹ بننے والوں کا نوٹس لیں: وزیراعظم


تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا تھا کہ اگر دھرنا دینے والے واپس بھی چلے جاتے ہیں تو بھی ایک عرصے تک حکومت کے لیے مشکلات بدستور موجود رہیں گی۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے حکومت مخالف دھرنے گزشتہ 24 روز سے جاری ہیں جب کہ وزیراعظم سمیت حکومتی عہدیدار اس احتجاج کو ملکی معیشت اور ساکھ کے لیے مضر قرار دیتے ہوئے اس کے مذاکراتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

اتوار کو وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے معیشت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور عوام کو ان کا نوٹس لینا چاہیے۔

"یہ جو پاکستان کی ترقی برداشت نہیں کرسکتے آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اس کا نوٹس لیں قوم اس کا نوٹس لے اور قوم اس طرح کے دھرنوں کی کسی کو اجازت نہ دے۔"

انھوں نے یہ بات پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد سیالکوٹ میں لوگوں سے مختصر خطاب میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے والوں کو سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے معاونت کرنی چاہیے۔

قبل ازیں دھرنوں کے قائدین عمران خان اور طاہر القادری کی طرف سے سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی امداد کے لیے اعلانات سامنے آچکے ہیں۔

دوسری جانب احتجاجی جماعتوں کے قائدین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ دونوں جماعتیں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی آرہی جب کہ حکومت اور پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی جماعتیں اس مطالبے کو رد کر چکی ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ پارلیمان میں مبینہ طور پر دروغ گوئی پر وزیراعظم کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکومت اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں نے احتجاجی جماعتوں سے بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے لیکن مذاکرات کے متعدد دور ہونے کے بعد بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فریقین میں اعتماد کا فقدان صورتحال کو کسی حل کی طرف لے جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

"ایک تو حل یہ تھا کہ دونوں نے لچک کے کچھ اشارے دیے تھے اور اس پر اگر قائم رہتے مگر اب وہ اپنی پوزیشنز سے پیچھے چلے گئے ہیں اور معاملات میں میرا خیال ہے بہت سنگین تعطل ہے اور حکومت کا خیال ہے کہ یہ لوگ تنگ کر چلے جائیں گے اور ہمارا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ یہ ایک بڑی خطرناک سوچ ہے اور اس کے نتائج آنے والے وقت میں اچھے نہیں ہوں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اگر دھرنا دینے والے واپس بھی چلے جاتے ہیں تو بھی ایک عرصے تک حکومت کے لیے مشکلات بدستور موجود رہیں گی اور یہ سیاسی کشیدگی مستقبل قریب میں ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

XS
SM
MD
LG