رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی صورتِ حال: پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات ختم کرنے پر اتفاق



حکومت میں شامل جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے گورنر سندھ عشرت العباد کی زیرِ صدارت اتوار کو گورنر ہاؤس میں ایک اجلاس منعقد ہوا جِس میں دونوں جانب سے پارٹی راہنماؤں سمیت وزیرِ اعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیرِ داخلہ نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے بعد مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے بتایا کہ اجلاس میں دونوں جماعتوں نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے مفاہمت کے عمل کو جاری رکھ کر غلط فہمیوں کے خاتمے اور باہمی مشاورت سےآگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ میں دونوں جماعتوں کے کارکنان ملوث نہیں بلکہ اِن واقعات میں لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کا ہاتھ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف چار حضرات، گورنر سندھ ، وزیرِ اعلیٰ ، فاروق ستار اور وہ خود کراچی صورتِ حال سےمتعلق بیانات دینے کے مجاز ہوں گے، تاکہ دونوں طرف سے الزام تراشیوں کا خاتمہ ہو اور شہر کا امن برقرار رہ سکے۔

واضح رہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا تھا جب ایم کیو ایم کے قومی و صوبائی اسمبلی اور سنیٹ کے اراکین نے اپنی جماعت کی رابطہ کمیٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ اُنھیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن نشستوں پر بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔

اِس سے قبل، پاکستان کے دورے پر آئے ہوئےبرطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی کراچی میں تشدد کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ شہر میں جاری سیاسی تشدد کا فوری خاتمہ ضروری ہے اور اِس سلسلے میں دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت خوش آئند ہے۔

خیال رہے کہ شہر میں گذشتہ چار روز سے جاری سیاسی بنیادوں پرقتل کے واقعات میں مقامی میڈیا کے مطابق اب تک 35سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG