رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں قبل از وقت انتخابی دنگ سج گئے، پارٹی ایجنڈے اور منشور طے


پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اس وقت یہ ہے کہ انتخابات کے اعلان سے قبل ہی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ایجنڈے اور سیاسی منشور قریب قریب طے کرلئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ ، جماعت اسلامی اور دیگر دینی و سیاسی جماعتیں وقت سے پہلے ہی سیاسی دنگل سجا بیٹھی ہیں اور ایک ایک جماعت کے آٹھ آٹھ، دس دس جلسے اور جلوس نکل چکے ہیں۔

انتخابات کی تیاری میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ آمنے سامنے آکھڑی ہوئی ہیں جبکہ ان دونوں کی مخالفت میں پاکستان تحریک انصاف کوئی خانہ خالی چھوڑنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی۔ پیپلز پارٹی نے جنوبی صوبے کا پتہ اپنے ہاتھ میں سجا لیا ہے تو ن لیگ نے سندھ میں قوم پرستوں کا دامن تھام لیا ہے ۔ اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس بار انتخابی سیاست کے رنگ و تیور یکسر بدلے ہوئے ہوں گے۔

روز روز کے سیاسی جلوسوں کو دیکھ کر صاف محسوس ہورہا ہے کہ تمام جماعتوں نے اپنے اپنے تیرکمانوں پر تان لئے ہیں۔صدر کا عہدہ پارٹی عہدے سے بڑا اور غیر جانبداری کا متقاضی ہوتا ہے لیکن موجود صدر آصف علی زرداری جس طرح جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر اپوزیشن راہنماوٴں کے نام لے لے کر انہیں مخاطب اور ’چیلنج‘ کررہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اگر اگلی بار اگر ان کی حکومت نہیں بنی تو آنے والے وزیراعظم ، صدر زردای کی مدت صدارت پوری ہونے تک اپنی خیر مناتا رہے گا۔ اس صورتحال میں کسی اچھے نتیجے کی توقع دیوانے کا خواب بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ادھر اپوزیشن کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ مسلم لیگ نون کے راہنما میاں محمدنواز شریف لوڈ شیڈنگ سے لیکر این آر اوفائدہ اٹھانے تک اور کرپشن سے لیکر غیر ملکی قرضوں تک سب کا ذمے دار موجودہ حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ نواز شریف عدلیہ کے لئے سب سے زیادہ ’نرم گوشہ‘ رکھتے ہیں اورحکومت کو اس کا سب سے بڑا مخالف ثابت کرنے سے نہیں چوکتے۔لہذا اگلے انتخابات کے لئے ان کاسب سے بڑا ایجنڈاموجودہ حکومت سے نجات اورعوامی مسائل کا حل ان کا پارٹی منشور ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے جنوبی پنجاب کا نعرہ ،ن لیگ کی پنجاب میں اکثریت پر کاری ضرب ہے۔لہذا نون لیگ نے بھی نہلے پر دہلے مارتے ہوئے پیپلز پارٹی سے وابستہ ’سندھ کارڈ‘ کوالگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ نواز شریف نے نہ صرف پچھلے دنوں سندھ کے پے در پے دورے کئے بلکہ قوم پرست راہنماوٴں سے بھی خوب ملاقاتیں کیں۔ ان دوروں اور ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ماروی میمن اور بعد میں ممتاز بھٹو نون لیگ میں شامل ہوگئے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قوم پرست سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابل آ کھڑے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس وقت اس سوچ میں ہے کہ اگر وہ جنوبی پنجاب کو نئے صوبے کی حیثیت دے بھی دیتی ہے تو باقی صوبو ں کے حق میں اٹھنے والی آواز کو کیسے دبائے گی۔

ادھر کراچی کو بھی صوبہ بنائے جانے کی آوازیں تنازع کا روپ اختیار کرتی جارہی ہیں اور اس کی تازہ ترین مثال 22مئی کو’کراچی صوبے‘ کے خلاف سندھ کے قوم پرستوں کیجانب سے نکالی جانے والی ریلی پرفائرنگ کا واقعہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی بحث کو کس حدتک سمیٹنے میں کامیاب ہوپانی ہے۔

XS
SM
MD
LG