رسائی کے لنکس

logo-print

وزیر اعظم کے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی ایوانوں میں ہلچل


قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران چوہدری نثار نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”ہم دیکھیں گے کہ اب سزا یافتہ وزیراعظم کیسے ایوان میں داخل ہوگا‘‘،،’’ اگر کسی میں دم ہے تو وہ وزیراعظم کو لا کر دکھائے“۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے”گو گیلانی گو‘‘کے نعرے بھی لگائے

عدالت عظمیٰ کی جانب سے وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیئے جانے کے بعدجمعرات کوملک کے سیاسی ایوانوں اور’ میدانوں‘ میں سارا دن ہلچل مچی رہی۔ ایک جانب قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس منعقد ہوا جس میں حزب مخالف نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تو دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں وزیراعظم کو کام سے روکنے کی درخواست بھی دائر کر دی گئی۔ادھر ایوان صدر نے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا۔

وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر فہمیدہ مرزا کی صدارت میں شروع ہوا تو وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم کے خلاف عدالت نے فرد جرم کچھ اور عائد کی اور سزا کچھ اور دی ہے۔ فرد جرم میں توہین عدالت کا ذکر کیا گیا اور سزا عدلیہ کی تضحیک کی دی گئی ۔وزیراعظم نے کبھی عدلیہ کی تضحیک نہیں کی ہے ، تین بار طلب کرنے پر وہ اس کے سامنے پیش ہوئے۔انھوں نے کہا کہ سنہ 2008میں جنیوا کے اٹارنی جنرل نے صدر زرداری اور بےنظیر بھٹو کے خلاف سوئس کیسز میرٹ پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


اپوزیشن رہنما کا رد عمل
اس دوران چوہدری نثار نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”ہم دیکھیں گے کہ اب سزا یافتہ وزیراعظم کیسے ایوان میں داخل ہوگا‘‘،، اگر کسی میں دم ہے تو وہ وزیراعظم کو لا کر دکھائیں“۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے”گو گیلانی گو‘‘کے نعرے لگائے۔ “

جواب میں پیپلز پارٹی کے اراکین بھی نشستوں پر کھڑے ہوئے اور ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

فہمیدہ مرزا کی ایوان کے ماحول کو پر امن رکھنے کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئیں اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

اس سے قبل چوہدری نثار نے میڈیا سے گفتگو میں بھی کہا کہ وزیراعظم بطور ایم این اے ایوان میں آنے کے اہل نہیں ، وزیراعظم منصب پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں ، دنیا کے لیڈرز صرف الزامات پر مستعفی ہو جاتے ہیں لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر جگہ رد عمل ظاہر کریں گے۔

ادھر لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے ، عدلیہ کے فیصلوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔

وزیراعظم کوکام سے روکا جائے، عدالت میں درخواست دائر
وزیراعظم کو کام سے روکنے کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ مولوی اقبال حیدر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کو نا اہل قرار دینے سے متعلق درخواست گزشتہ ایک سال سے عدالت میں زیر التوا ہے جس پر اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس بھی جاری کیے گئے لیکن وہ سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس میں حکم پر یوسف رضا گیلانی کو آرٹیکل تریسٹھ ون جی کااطلاق ہوتا ہے لہذا فوری طور پر اسپیکر قومی اسمبلی کو حکم دیا جائے کہ وزیراعظم کو کام کرنے سے روکیں۔ عدالت نے فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے جمعہ کو سماعت مقرر کی ہے۔

ایوان صدر میں مایوسی
ایوان صدر میں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اہم اجلاس میں توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے شرکا کو فیصلے سے آگاہ کیا۔ ترجمان ایوان صدر کے مطابق اجلاس میں شرکا نے وزیراعظم کو برطرف کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیراعظم سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی پر سزا دی گئی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم کو صرف آئینی طریقے سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔




XS
SM
MD
LG