رسائی کے لنکس

نئی حلقہ بندیوں پر حکومت اور اپوزیشن میں تعطل برقرار


پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق۔ فائل فوٹو

پارلیمانی رہنما اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد کل دوبارہ ملیں گے۔

مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا ہے۔

اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمانی رہنما اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد کل دوبارہ ملیں گے۔

گزشتہ روز ہونے والا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد آج منگل کے روز ایک اور اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، نوید قمر، شاہ محمود قریشی، محمد اچکزئی، آفتاب شیر پاؤ وزیر قانون زاہد حامد، ایم کیوایم پاکستان اور جے یو آئی (ف) کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

منگل کو ہونے والے اجلاس میں بھی حلقہ بندیوں پر غور کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن اور محکمہ شماریات کے حکام نےاجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی پہلے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے مطالبے پر قائم ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کی کونسل سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔

اجلاس کےبعد سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سب متفق ہیں کہ انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے تاہم پارلیمانی رہنما کل اپنی قیادت سے مشورے کے بعد دوبارہ ملیں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس اچانک ختم کرنا پارلیمنٹ سے مذاق کے مترادف ہے اور حکومت نئی حلقہ بندیوں کا بل مشترکہ مفادات کونسل میں لانے سے کیوں گھبرا رہی ہے۔

خورشید شاہ نے پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں الیکشن نہ پہلے ہوں نہ بعد میں بلکہ اپنے وقت پر ہوں۔ حلقہ بندیوں میں ترمیم کے لیئے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری آئینی تقاضا ہے لیکن معلوم نہیں حکومت حلقہ بندیوں کامعاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے سے کیوں گھبرا رہی ہے۔

نواز شریف کی سیاسی جماعتوں کو منانے کے لیئے بنائی گئی کمیٹی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سید خورشید شاہ نے شاعرانہ انداز میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔

پی پی پی رہنما کہنا تھا کہ کل یہ طے کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اگلی منگل تک چلے گا، لیکن پھر حکومت نے پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کے بغیر اچانک کہا کہ منگل کو اجلاس نہیں ہو گا اور بعد میں بلا لیں گے۔ حکومت کا اس طرح اجلاس ختم کرنا پارلیمنٹ کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت منگل کو اجلاس کرنے سے ہچکچا رہی تھی کیونکہ سینیٹ سے منظور شدہ الیکشن ترمیمی بل اجلاس میں پیش ہونا تھا۔

اس موقع پر نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت غلط بیانی کر رہی ہے کہ موجودہ صورتحال میں پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن نہیں ہو سکتے۔ جب تک نئی مردم شماری کے نتائج جاری نہیں ہوتے تب تک پرانی حلقہ بندیاں مؤثر رہیں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آئینی تقاضا ہے کہ مردم شماری کے نتائج جاری ہونے کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے طلال چوہدری نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ نئی حلقہ بندیوں سے ہماری جماعت کی سیٹیں کم ہو رہی ہیں لیکن ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ ہمارا مؤقف ہے کہ نئے انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق ہونے چاہئے لیکن لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم کا حصہ نہ بنیں اور اس سلسلے میں لوگوں سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر رابطے کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ہم گرینڈ ڈائیلاگ کی صورت میں لوگوں کو بلا رہے ہیں،انہیں دلاسے دیے جا رہے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں کہا جا ئے گا۔ نئی حلقہ بندیوں میں چھوٹے صوبوں کو ان کا حق دیا جارہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG