رسائی کے لنکس

وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی عرفان صدیقی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ ہے اور وزیراعظم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ووٹ کے ذریعے پارلیمان میں آنے والوں کو پارلیمان میں رہنا چاہیے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی ایک جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے یہ کہہ کر حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا کہ ان کی جماعت کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے حکومت سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

متحدہ قومی موومنٹ "ایم کیو ایم" کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے جمعرات کو علی الصبح اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی جماعت کی لندن اور کراچی میں موجود رابطہ کمیٹیوں اور مذاکراتی ٹیم نے صلاح و مشورے کے بعد کیا ہے۔

اس فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "یہ بات طے شدہ ہے کہ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، ایم کیو ایم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قومی سیاست سے ایم کیو ایم کا کردار منہا کیا جا رہا ہے، ایم کیو ایم پر غیر اعلانیہ پابندی ہے اس کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی اور فلاحی سرگرمیوں پر بھی۔"

فاروق ستار کے بقول اس صورتحال میں ان کی جماعت کے پاس کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ اسمبلیوں میں اپنا کردار ادا کرے۔

"سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے ہمارا کردار ہی ختم کر دیا گیا ہے تو اسمبلیوں میں ہم کیا کردار ادا کریں گے۔"

ایم کیو ایم کے قانون سازوں نے گزشتہ ماہ پارلیمان اور سندھ اسمبلی سے استعفے دے دیے تھے جو تاحال منظور نہیں کیے گئے اور حکومت نے ایم کیو ایم کو استعفے واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مذاکرات کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

مولانا ایم کیو ایم سے مذاکرات کرتے رہے ہیں جس میں یہی تاثر سامنے آیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ استعفے واپس لینے پر آمادہ ہو جائے گی۔

ایم کیو ایم دو سال سے کراچی میں جاری رینجرز اور پولیس کے ٹارگٹڈ آپریشن پر یہ کہہ کر تنقید کرتی آرہی ہے کہ اس میں مبینہ طور پر صرف اس کی جماعت کے کارکنوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

تاہم حکومت اور سکیورٹی ادارے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپریشن بلا تفریق تمام جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کیا جا رہا ہے اور امن کی مکمل بحالی تک یہ جاری رہے گا۔

قومی امور کے لیے وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی عرفان صدیقی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ ہے اور وزیراعظم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ووٹ کے ذریعے پارلیمان میں آنے والوں کو پارلیمان میں رہنا چاہیے۔

"فاروق ستار کے بیان کے باوجود بھی (مذاکرات کا) سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور مذاکرات کی بندش کی کوئی وجہ ہے تو اسے بھی دیکھ لیا جائے گا۔۔۔ان کے جو مطالبات حکومت کے دائرے میں آتے ہیں ان کے ازالے کے لیے ہم تیار ہیں۔"

اسی دوران متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم قائد الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطاب کو براہ راست نشر کرنے اور اس کی اشاعت پر بھی ایک عدالتی فیصلے کے بعد پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

فاروق ستار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ "قائد تحریک الطاف بھائی کی براہ راست تقاریر نشر کرنے پر پابندی کو بھی ختم کیا جائے۔"

حکومت نے کراچی کے آپریشن پر متحدہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن ایم کیو ایم کے مطابق شکایت ازالہ کمیٹی ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو پارلیمانی سیاست میں رہتے ہوئے اپنی شکایات کے ازالے کی کوشش کرنی چاہیے۔

XS
SM
MD
LG